مذہب امن
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
پیسیفزم کی یہ تحریک تاریخ کے تقریباً تمام دوروں میں پائی جاتی رہی ہے۔ کبھی مذہبی بنیاد پر اور کبھی فلسفیانہ بنیاد پر اور کبھی اخلاقی بنیاد پر۔ پیسیفزم کے ماننے والوں میں ایک گروہ وہ ہے جو امن برائے امن کا قائل ہے۔ اُس کے نزدیک امن کی تعریف ہے عدم جنگ (absence of war)۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو امن کے ساتھ انصاف کو ضروری قرار دیتا ہے۔ وہ امن کے ساتھ انصاف (peace with justice) کی وکالت کرتا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف امن ایک منفی امن (negative peace) ہے اور امن مع انصاف مثبت امن (positive peace)۔ گاندھی عدم تشدد کے علم بردار تھے۔ مگر کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ گاندھی کا عدم تشدد (non violence) محدود مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ اسی لیے وہ 15 اگست 1947 کو اچانک ختم ہو گیا۔ اُن کی تحریک کا اصل مقصد برٹش رول کو ختم کرنا تھا، نہ کہ حقیقتاً ملک میں ایک پر امن سماج قائم کرنا۔ Gandhi's policy of non-violence was not to establish peace in the society, but to stage a coup in order to oust the British rule. He was successful, but not in the first sense rather in the second sense. امن آزادی کا ایک عمل ہے، نہ کہ مجبوری کا عمل۔ مجبور کن امن جبر ہے وہ امن نہیں۔ امن وہ ہے جو ہنی انقلاب کے ذریعہ آئے۔ قدیم زمانہ میں رومیوں نے محدود طور پر اپنی ریاست میں امن قائم کیا تھا جس کو وہ رومی امن (Pax Romana) کہتے تھے۔ اسی طرح بیسویں صدی میں سوویت یونین میں بظاہر امن پایا جاتا تھا جس کو کمیونسٹ امن کا نام دیا گیا۔ مگر یہ دونوں جبری امن تھے، اور جبری امن کوئی مطلوب امن نہیں۔ کچھ مفکرین امن کے لیے عالمی ریاست (world state) کا خواب دیکھتے رہے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی ریاست کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ پر امن معاشرہ ذہنی تربیت اور فکری انقلاب کے ذریعہ وجود میں لایا جاسکتا ہے، نہ کہ کسی عالمی حکومت کے مرکزی کنٹرول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader