Urdu book · امن عالم

مذہب امن

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعہ۔ مغرب کی نشأۃ ثانیہ کے بعد بہت سے مغربی مفکرین نے جنگ کے بغیر دنیا کا خواب دیکھا مگر یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ ڈچ فلسفی اور ہیومنسٹ اِریسمس (Erasmus) 1466 میں روٹرڈم میں پیدا ہوا اور 1536 میں اُس کی وفات ہوئی۔ اُس کی تعلیم یہ تھی کہ انسانیت کا سب سے اونچا آئیڈیل امن اور انسانی اتحاد ہے: He taught that the highest ideal of mankind would be peace and concord. (13/849) اس میں کوئی شک نہیں کہ عملی اعتبار سے امن تمام مطلوب چیزوں میں سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اس لیے کہ کسی بھی مثبت یا تعمیری کام کے لیے انسانی آبادی میں امن کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ امن کے قیام کے سلسلہ میں مذہب کی زیادہ اہمیت نہیں۔ اُن کے نزدیک تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہب کے ذریعہ امن کبھی قائم نہ ہوسکا: Efforts to confirm a lasting peace through religious sanctions have had little effect. (13/846) راقم الحروف کو اس نظریہ سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ ایک ناقص مطالعہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ حضرات جب قیام امن کے سوال پر غور کرتے ہیں تو وہ اسلام کو حذف کر کے صرف دوسرے مذاہب کے مطالعہ کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔ کیوں کہ غلط طور پر یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام پورے معنی میں امن کا مذہب ہے۔ اسلام نے پہلی بار عملی طور پر امن کا نظام قائم کیا اور انسانیت کے لیے پُرامن زندگی کے بند راستے کھول دیے ۔ یہاں اسلام سے میری مراد اسلام کا دورِ اول ہے جو اسلام کو سمجھنے کے لیے گویا نمائندہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس دور میں اسلام کے زیر اثر دو بڑے واقعات ہوئے ۔ (1) امن کے راستہ کی رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا۔ (2) نظریاتی اور عملی دونوں اعتبار سے امن کا ایک کامل ماڈل قائم کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page