امن عالم
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
option) کی۔ مثلاً کسی تحریک کے پہلے ہی مرحلہ میں اسٹیٹس کو کو بدلنے کی کوشش کرنا مشکل انتخاب ہے اور اسٹیٹس کو کو بدلے بغیر حاصل شدہ دائرہ میں اپنا عمل جاری کرنا آسان انتخاب۔ نزاع کے موقع پر لڑ جانا مشکل انتخاب ہے اور نزاع کے موقع پر صلح کر لینا آسان انتخاب۔ حریف کے مقابلہ میں متشددانہ طریقہ کار کو اپنانا مشکل انتخاب ہے اور حریف کے مقابلہ میں پرامن طریقہ کار کو اپنانا آسان انتخاب۔ جارحیت کا جواب جارحیت سے دینا مشکل انتخاب ہے اور جارحیت کا جواب صبر وتحمل سے دینا آسان انتخاب۔ مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں ہنگامہ آرائی کا انداز اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں خاموش تدبیر اختیار کرنا آسان انتخاب۔ اصلاح کے لیے ریڈیکل طریقہ اختیار کرنا مشکل انتخاب ہے اور اصلاح کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کرنا آسان انتخاب۔ نتیجہ کی پروا کیے بغیر پر جوش اقدام کرنا مشکل انتخاب ہے اور نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکیمانہ اقدام کرنا آسان انتخاب۔ حکمرانوں سے محاذ آرائی کرنا مشکل انتخاب ہے اور حکمرانوں سے اعراض کرتے ہوئے تعلیم وتربیت کے دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرنا آسان انتخاب۔ ان چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کے مطابق ، اختیار ایسر کیا ہے اور اختیار اعسر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا (exception) کی۔ اسلام کی تمام تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی عملی زندگی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام کا نمونہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610ء میں مکہ میں پہلی وحی اتری۔ اللہ نے آپ کو جس مشن پر مامور کیا وہ توحید کا مشن تھا۔ اس مشن کی نسبت سے مکہ میں ایک بہت بڑا عملی مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ جس کو اللہ کے پیغمبر ابراہیم اور اسماعیل نے توحید کے گھر کی حیثیت سے بنایا تھا اس کو بعد کے زمانہ میں عملاً شرک کا مرکز بنا دیا گیا۔ وہاں 360 بت رکھ دئے گئے۔ اس صورت حال کا ظاہر یہ تقاضا تھا کہ قرآن میں پہلا حکم اس مفہوم کا اترے کہ : طهر الکعبة

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader