Urdu book · امن عالم

پیغمبر اسلام کا نمونہ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

من الاصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ مگر اس مسئلہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اس وقت قرآن میں پہلا حکم یہ اترا کہ وَثِیَابَكَ فَطَهِّرُ (4:74) یعنی اپنے اخلاق اور سیرت کی تطہیر کرو۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میں پیغمبر اسلام کو کعبہ کی تطہیر کا حکم دیا جاتا تو اس وقت جب کہ مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا، یقینی طور پر یہ حکم فوراً ٹکراؤ اور جنگ کا سبب بن جاتا۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق، پیغمبر اسلام کی دور کے تیرہ سال تک کعبہ میں پرامن طور پر نماز پڑھتے رہے جب کہ وہاں سیکڑوں کی تعداد میں بت رکھے ہوئے تھے۔ اسی طرح آپ نے اور آپ کے اصحاب نے عمرۃ الحدبیہ (629ء) کے موقع پر کعبہ کا طواف کیا، جب کہ اس وقت کعبہ میں 360 بت بدستور موجود تھے۔ پیغمبر اسلام نے ایسا اس لیے کیا تا کہ مشرکین سے جنگ اور ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کیا جا سکے اور امن کی حالت برقرار رہے۔ آپ کی پوری زندگی اسی امن پسندانہ پالیسی کی مثال تھی۔ مکہ سے ہجرت کے موقع پر مشرکین جنگ پر آمادہ تھے مگر آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے۔ حدیبیہ ٹریٹی (628ء) کے موقع پر پورے معنوں میں جنگی حالات پیدا ہو گئے تھے۔ مگر آپ نے مشرکین کی یک طرفہ شرطوں پر راضی ہو کر ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ غزوہ خندق (627ء) کے موقع پر مشرکین کی بارہ ہزار فوج مدینہ کی سرحد پر جنگ کا چیلنج کر رہی تھی۔ مگر آپ نے لمبی خندق کھود کر اپنے اور دشمنوں کے درمیان ایک فاصل (buffer) قائم کر دیا، وغیرہ۔ اسلام تو توحید کا مشن ہے ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو ایک اللہ کا پرستار بنایا جائے ۔ لوگوں کے دل ودماغ کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ صرف ایک اللہ سے محبت کریں (البقرہ، 2:165) اور صرف ایک اللہ سے خوف کریں (التوبہ، 2:18)۔ صرف ایک اللہ ان کا سب سے بڑا کنسَرن (concern) بن جائے۔ اس قسم کا دعوتی مشن جنگ اور متشددانہ ٹکراؤ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ جنگ اور تشدد کے حالات پیدا ہونے کے بعد وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جب کہ ذہنی اصلاح اور روحانی انقلاب کی کوئی تحریک مؤثر طور پر چلائی جاسکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پرامن حالات ہمیشہ اسلام کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page