اسلام میں جہاد کا تصور
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک فیصد سے بھی کم آیتیں، زیادہ متعین طور پر اعشاریہ 5 فیصد (0.5 per cent)۔ اصل یہ ہے کہ قرآن 23 سال کی مدت میں وقفہ وقفہ سے اترا۔ جیسے حالات پیدا ہوتے تھے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے احکام نازل کردئے جاتے تھے۔ اس 23 سال کو دو مختلف مدتوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک 20 سال کی مدت اور دوسرے تین سال کی مدت۔ 20 سال کی مدت میں قرآن میں وہ احکام اترے جو ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، عدل، اصلاح سے تعلق رکھتے تھے اور تین سال کی مدت میں جنگ کے احکام اترے جب کہ پیغمبر اسلام کے مخالفوں نے یک طرفہ طور پر حملہ کر کے اہل اسلام کے لیے دفاع کا مسئلہ پیدا کر دیا تھا۔ گویا قرآن میں جہاد بمعنی قتال کی آیتوں کی حیثیت استثنا کی ہے اور دوسری آیتوں کی حیثیت عموم کی۔ استثنا اور عموم کا یہ فرق ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔ اس میں حکمت کی بہت سی باتیں ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ گیتا میں کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ ہے ارجن، لڑائی کے لیے تیار ہو اور جنگ کر۔ O Arjun, be ready and fight. (Chapter 3, 11) پوری گیتا کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جنگ کی بات اس میں استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر صرف اسی استثنائی حصہ کو لیا جائے اور اس کو جنرلائز کر کے اسی سے گیتا کی مجموعی تعلیم نکالی جائے تو یہ ایک غیر علمی طریقہ ہوگا اور گیتا کو صحیح طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بن جائے گا۔ اسی طرح بائبل میں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ : Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (Matthew 10/34) حضرت مسیح کے پورے کلام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا یہ قول استثنائی قول ہے۔ یہی ان کی عمومی تعلیم نہیں۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کے پیغام کو متعین کرنے کے لیے ان کے عمومی اقوال کو دیکھا جائے گا۔ بعض استثنائی اقوال کو لے کر مسیح کی عمومی تصویر بنا نادرست نہیں ہوسکتا۔ یہی کسی کتاب کے مطالعہ کا علمی طریقہ ہے۔ یہی طریقہ گیتا اور بائبل کے مطالعہ کے لیے بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader