اسلام میں جہاد کا تصور
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
درست ہے اور یہی طریقہ قرآن کے مطالعہ کے لیے بھی درست۔ اب قرآن اور حدیث کے حوالوں کی روشنی میں جہاد کا مفہوم متعین کیجیے۔ قرآن کی ایک آیت ہے : وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (29:69)۔ یعنی جو لوگ اللہ میں جہاد کریں گے اللہ انہیں اپنے راستے دکھائے گا۔ اس آیت میں جہاد سے مراد وہ کوشش ہے جو سچائی کی تلاش میں یا اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کی جائے۔ اس آیت میں ایک ایسے عمل کو جہاد کہا گیا ہے جو مکمل طور پر ایک فکری جستجو (intellectual pursuit) کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے کیا اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام میں دفاع کے لیے لڑنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ ہر مذہبی اور غیر مذہبی سسٹم میں اس کی اجازت ہے۔ مگر تشدد میرے نزدیک اس سے الگ ایک اور فعل کا نام ہے۔ اس پہلو سے اسلام میں قطعاً تشدد کی اجازت نہیں۔ تشدد کا لفظ عام طور پر جس مفہوم میں بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جائے۔ اور اس قسم کے تصور کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ کوئی شخص کسی کو اپنا دشمن سمجھے تو اس بنا پر اُس کے لیے جائز نہیں ہو جاتا کہ وہ اُس کو ختم کرنے کے نام پر اُس کے خلاف تشدد کرنے لگے۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور جارح کے درمیان فرق کیا گیا ہے ۔ اگر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کے خلاف یک طرفہ طور پر متشددانہ جارحیت کرے تو قرآن کے مطابق ، اُس کو حق ہے کہ وہ ایسے جارح کے خلاف دفاعی کارروائی کرے اور بقدر ضرورت جوابی تشدد کا استعمال کرے ۔ قرآن کی سورہ الحج میں کہا گیا ہے کہ لڑنے کی اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف لڑائی کی جا رہی ہے : Permission of fighting is given to those who are attacked. (22:39) مگر دشمن کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دشمن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم عین وہی ہے جو مسیح کی زبان سے بائبل میں اس طرح آئی ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader