Urdu book · امن عالم

اسلام میں جہاد کا تصور

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

Love your enemy (Luke 6-31) قرآن میں دشمنانہ سلوک کا جواب دشمنانہ سلوک کے ساتھ دینے سے منع کیا گیا۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، دشمن سے لڑنا نہیں بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔ اسلام کے مطابق، ہر انسان اصلاً مسٹر نیچر ہے۔ وہ صرف وقتی طور پر مسٹر دشمن بن جاتا ہے۔ اگر اُس کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کیا جائے تو وہ اپنی فطرت کی طرف لوٹ آئے گا، اور ماضی کا دشمن حال کا دوست بن جائے گا۔ اب غور کیجیے کہ کوئی شخص تشدد کیوں کرتا ہے۔ اس کا ایک سبب آئیڈیالا جیکل ایکسٹریزم ہے ۔ جہاں ایکسٹریزم نہ ہو وہاں تشدد بھی نہ ہو گا۔ چنانچہ اسلام میں ایکسٹریزم کو منع کر کے اس قسم کے تشدد کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اسلام نے کہا کہ دین میں کسی قسم کا غلو نہیں (سنن النسائی، حدیث نمبر 3057؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3029؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1851) There is no extremism in the religion of Islam. اسی طرح تشدد کا ایک سبب غصہ ہے۔ اور اسلام میں غصہ کو ایک بہت بڑی اخلاقی بُرائی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں (الشوریٰ، 42:37)۔ اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اگر اسلام کی اس تعلیم کے مطابق لوگ ایسا کریں کہ جب انہیں کسی پر غصہ آئے تو وہ اُس کو معاف کر دیں، ایسی صورت میں تشدد کی نوبت ہی نہ آئے گی۔ تشدد کو استعمال کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ تشدد ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس طاقتور ذریعہ کو استعمال کر کے وہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔ مگر قرآن میں اس ذہن کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق، تشدد صرف ایک بے نتیجہ قسم کا منفی رد عمل ہے، وہ کسی مقصد کے حصول کا کوئی مؤثر اور مفید ذریعہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page