Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

موافق فضا بناتے ہیں اور پرتشدد حالات ہمیشہ اسلام کے لیے مخالف فضا جو د میں لاتے ہیں۔ جنگ ایک ریاستی عمل اسلام میں جنگ عوام کا کام نہیں ہے بلکہ وہ باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ یعنی جس طرح عوام وقت آنے پر بطور خود نماز پڑھ لیتے ہیں اسی طرح وہ بطور خود جنگ یا قتال نہیں کر سکتے۔ جنگ یا قتال کا اعلان صرف ایک قائم شدہ ریاست کر سکتی ہے۔ حکومت اگر پکارے تو عوام اس کے معاون بن کر اس کے تحت شریک ہو سکتے ہیں مگر خود سے وہ ہرگز کوئی جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ قرآن میں ایک عمومی حکم کے طور پر یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جب بھی کوئی خوف (یا خارجی حملہ) کی صورت پیدا ہو تو عوام کو خود سے کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہیے۔ ان کو صرف یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو اولوالامر (النساء، 83:4) یعنی حکام تک پہنچائیں اور انہیں موقع دیں کہ وہ حسب ضرورت اپنی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنائیں ۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2957)۔ یعنی حکمراں ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قتال کا اعلان یا اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر قائم شدہ حکومت کا کام ہے۔ عامۃ المسلمین اس کی ماتحتی میں رہ کر اور اس کے زیر حکم حسب ضرورت اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، اس سے آزاد ہو کر نہیں۔ اس اسلامی اصول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس غیر حکومتی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں جس کو عام طور پر گوریلا وار (Gorilla War) کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ گوریلا وار عوام کی آزاد تنظیموں کی طرف سے لڑی جاتی ہے، نہ کہ حکومتی ادارہ کی طرف سے۔ خود حکومتی ادارہ کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف دفاعی جنگ لڑنا چاہتی ہے تو قرآن کے مطابق، پہلے وہ اس کا باضابطہ اعلان کرے۔ اور اگر اس کے خلاف کوئی معاہدہ ہے تو اس معاہدہ کو وہ منسوخ کر دے (الانفال، 8:58)۔ اسلام میں اعلان کے ساتھ جنگ ہے، بلا اعلان جنگ (undeclared war)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page