Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ وقت کے مطابق، کوئی عمل نہیں۔ جہاد بمعنی قتال کو تمام علماء حسن لغیرہ مانتے ہیں، نہ کہ حسن لذاتہ۔ اب موجودہ حالات میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب جہاد بمعنی قتال کا وقت نہیں رہا، اب جہاد بمعنی پُرامن جدوجہد کا وقت دنیا میں واپس آ گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد بمعنی قتال اب منسوخ ہو گیا۔ وہ حکماً بدستور باقی ہے۔ یہ نیا معاملہ جو پیش آیا ہے اُس کا تعلق خود حکم کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ احوال کی تبدیلی سے ہے۔ اس کی توجیہہ اس فقہی مسلّم میں پائی جاتی ہے: تتغیر الأحكام بتغير الزمان والمكان (زمان ومکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں)۔ یہ امر واضح ہے کہ تبدیلی اور منسوخی میں نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے وہ عین اسلام کے حق میں ہے اور وہ اسلام ہی کے پیدا کردہ انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مواقع آخری حد تک کھول دیے جائیں۔ اب اہلِ اسلام گویا آخری طور پر اُس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کی آمد کی دعا رسول اور اصحابِ رسول نے ان الفاظ میں کی تھی: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (286:2)۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اب اسلام کے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔ اب پرامن طریقِ کار پر عمل کرتے ہوئے وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ ایک حدیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک پیش آنے والی ساری باتیں آپ نے ہم کو بتائیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنی امت کو نہایت شدت کے ساتھ سیاسی بغاوت سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی حکمراں خواہ تمہارے نزدیک ظالم ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page