Urdu book · امن عالم

ایک حدیث

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد آپ نے فرمایا: وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وَضَعَ السَّيْفَ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4252؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2202) یعنی میں اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ کرنے والے لیڈروں سے خائف ہوں، اور جب میری امت میں تلوار داخل ہو جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہ جائے گی۔ اس قسم کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں اس حدیث پر غور کیا جائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سیاسی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ پر تشدد عمل سے روکا اور پرامن عمل کی نصیحت کی۔ اس لیے کہ پرتشدد عمل کی روایت اگر ایک بار قائم ہو جائے تو اس کے بعد اُس کو ختم کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں آپ نے حکمراں کے خلاف خروج سے آخری حد تک منع فرمایا ہے۔ اس بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف کسی بھی عذر کی بنا پر بغاوت کرنا حرام ہے۔ (الغلو فی الدین صفحہ 417) ایک طرف حاكم کے خلاف متشددانہ سیاست کی یہ مطلق ممانعت ہے۔ دوسری طرف روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افضل الجهاد من قال كلمة حق عند سلطان جائر (سنن النسائی حدیث نمبر 4209 ؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2174 ؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4344 ؛ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4344 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 11143) یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات کہے۔ ان دونوں قسم کی روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی حکمراں شخص ظالم دکھائی دے تب بھی اس کے لیے زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ صرف قولی معنی میں اظہار رائے ہے، نہ کہ عملی معنی میں مخالفانہ سیاست چلانا یا حکمراں کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام میں صرف پرامن جدوجہد (peaceful struggle)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page