ایک حدیث
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ پر تشدد جد و جہد (violent struggle) کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں ۔ اسلام کی بعد کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذکورہ واضح ہدایات کے باوجود بعد کے مسلم نسلوں میں جہاد کے نام پر متشددانہ سیاست کی روایت چل پڑی ۔ حتی کہ یہ ذہن مسلمانوں پر اتنا زیادہ چھایا کہ دین رحمت (الانبییاء، 107:21) ان کے یہاں دین جہاد بمعنی قتال بن گیا۔ بعد کی صدیوں میں تیار ہونے والا بیشتر لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں اُن میں اس ذہن کی عکاسی اس طرح ہوئی کہ صبر و اعراض کی آیتوں کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ قتال کا حکم اُترنے کے بعد یہ آیتیں منسوخ ہو گئیں ۔ احادیث جمع کر کے مرتب کی گئیں تو اُن میں کتاب الجہاد تو نہایت تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ سرے سے کسی کتاب میں شامل نہیں ۔ یہی حال فقہ کی تمام کتابوں کا ہے ۔ فقہ کی کتابوں میں جہاد اور متعلقاتِ جہاد کے احکام نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں مگر دعوت اور متعلقاتِ دعوت کے ابواب کسی بھی فقہی کتاب میں قائم نہیں کیے گئے ۔ یہی حال بعد کو پیدا ہونے والے تقریباً تمام اسلامی لٹریچر کا ہوا ۔ ابن تیمیہ سے لے کر شاہ ولی اللہ تک ، اور شاہ ولی اللہ سے لے کر موجودہ زمانہ کے مصنفین تک ، کوئی بھی شخص دعوت کے موضوع پر کوئی کتاب تیار نہ کر سکا۔ اگر کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ ہے تو وہ بھی ایسا ہی ہے جیسے سیاست یا فضائل کی کسی کتاب کا نام دعوت و تبلیغ رکھ دیا جائے ۔ اس قسم کے لٹریچر کے تحت مسلمانوں کا جو مزاج بنا اُسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے والے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں اور جو شخص ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے وہ اُن میں غیر مقبول ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ امام حسین کے کردار کو تو ہمارے مقررین اور محررین نے خوب نمایاں کیا مگر امام حسن کا کردار نمایاں نہ کیا جا سکا۔ صلاح الدین ایوبی کو مسلمانوں کے درمیان زبردست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader