Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

شہرت حاصل ہوئی ۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے تاتاری غارت گروں کو اسلام میں داخل کرکے انہیں اسلام کا خادم بنایا اُن کا کوئی تذکرہ ہماری تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ میں اُسامہ بن لادن جیسے تشدد کی بات کرنے والے لوگ نہایت آسانی سے مسلمانوں کے درمیان ہیرو بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص امن اور احترامِ انسانیت کی بات کرے تو وہ مسلمانوں کے درمیان عمومی قبولیت حاصل نہ کر سکے گا۔ اس ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عام انسانیت مسلمانوں کا کنسرن (concern) ہی نہ رہی۔ مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ خدا کے بندوں کو وہ ’’اپنی قوم‘‘ اور ’’غیر قوم‘‘ میں تقسیم کرکے دیکھنے لگے۔ دعوتی طرزِ فکر کے مطابق، مسلمان اور غیر مسلم داعی اور مدعو قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جہادی (بمعنی قتالی) طرزِ فکر میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان دوسروں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھنے لگتے ہیں۔ مغربی قوموں کے استیلاء کے بعد یہ فرق بہت زیادہ بڑھ گیا۔ مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مغربی قوموں نے اُن سے اُن کا برتری کا مقام چھین لیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ رقابت مزید اضافہ کے ساتھ نفرت بن گئی۔ مسلمان عام طور پر دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اسلام اکیسویں صدی میں پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دورِ اول میں جو انقلاب آیا اُس کا ایک پہلو وہ ہے جس کی تکمیل دورِ اول ہی میں ہوگئی۔ یعنی نزولِ قرآن کی تکمیل اور اسلامی طرزِ زندگی کا نظری اور عملی نمونہ دنیا میں قائم ہو جانا۔ یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت اور احوالِ صحابہ کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا ہے۔ وہ ابدی طور پر انسان کے لیے ربانی طرزِ زندگی کا مستند نمونہ ہے۔ دورِ اول کے اسلامی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تدرّج کا طالب تھا۔ چنانچہ وہ لمبی مدت کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ دوسرا پہلو ایک مسلسل عمل (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں داخل ہوا۔ یہ تاریخ میں ایک بے حد و دور رس تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اُس کے لیے ہزار سالہ تغیراتی عمل درکار تھا۔ چنانچہ یہ عمل مکہ اور مدینہ سے جاری ہو کر دمشق اور بغداد تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page