Urdu book · امن عالم

اسلام اکیسویں صدی میں

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

پہنچا۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میں داخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ مستقبل میں آنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کیے جاتے ہیں: 1۔ اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ (الأنفال، 8:39) 2۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ (المائدہ، 5:3) 3۔ عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حم السجدہ، (41:53 4۔ اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ (البقرہ، 2:286) اسلامی انقلاب کے اس دوسرے پہلو کا خلاصہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ اُس کے بعد اسلام پر عمل کرنا زمانہ ماضی کے مقابلہ میں آسان ہو جائے۔ پچھلے دور کے اہلِ ایمان کو جو کام ’’عسر‘‘ کے حالات میں کرنا پڑتا تھا وہ اگلے دور کے اہلِ ایمان کے لیے ’’یسر‘‘ کے حالات میں انجام دینا ممکن ہو جائے (الانشراح، 6-5: 94)۔ تیسیر کے اس عمل کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بادشاہت کے تحت سیاسی جبر کا نظام قائم تھا۔ اس نظام کے تحت انسان کو سوچنے یا عمل کرنے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ جب کہ آزادی کے بغیر نہ دینی احکام پر عمل کیا جا سکتا اور نہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب نے نہ صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page