اسلام اکیسویں صدی میں
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتدائی طور پر جبر کے اس نظام کو توڑا بلکہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ اس عمل کی تکمیل موجودہ زمانہ میں اس طرح ہوئی ہے کہ آج اہلِ ایمان کو دینی عمل اور دینی دعوت دونوں کی مکمل آزادی حاصل ہے، الا یہ کہ وہ خود اپنی کسی نادانی سے حالات کو مصنوعی طور پر اپنے مخالف بنا لیں۔ اس انقلاب کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقی کے ذریعہ کمیونیکیشن کے جدید ذرائع حاصل ہوگئے ۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ حق کی دعوت کو تیزی کے ساتھ دنیا کے ہر حصہ میں پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں نے اس کو ممکن بنا دیا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں اور خدا کے دین کو خود علم انسانی کی روشنی میں مدلّل اور مبرہن کر سکے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہو گیا تھا کہ وہ امن اور آزادی کی فضا میں بخوبی طور پر اللہ کے دین پر عمل کریں اور اللہ کے دین کو دوسری اقوام تک پہنچانے کا دعوتی فریضہ کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دیں۔ مگر عین اسی صدی میں مسلمانوں کے نااہل رہنماؤں نے غلط رہنمائی کرکے انہیں ایسی سرگرمیوں میں الجھا دیا جس کا نتیجہ صرف یہ ہوسکتا تھا کہ اہل ایمان جدید مواقع کو استعمال نہ کرسکیں، حتی کہ وہ اُن کے شعور سے بھی بے بہرہ ہوجائیں۔ یہ غلطیاں بنیادی طور پر دو قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ۔ اس تعبیر نے غلط طور پر مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا کہ وہ اسلام کے کامل پیرو صرف اُس وقت بن سکتے ہیں جب کہ وہ اسلام کے تمام قوانین کو عملاً نافذ کردیں۔ اس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام اپنے حکمرانوں سے لڑ گئے، تا کہ اُن کو ہٹا کر وہ شریعت کا قانون نافذ کر سکیں۔ اس سیاسی بدعت کے نتیجہ میں کوئی خیر تو سامنے نہیں آیا البتہ مسلم دنیا میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں وہ جبر اور ظلم دوبارہ قائم ہو گیا جس کو لمبے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ختم کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بندوں سے اسلام کی کامل پیروی مطلوب ہے، نہ کہ اسلام کا کامل نفاذ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader