اسلام اکیسویں صدی میں
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری غلطی وہ ہے جو جہاد کے نام پر موجودہ زمانہ میں شروع کی گئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ سیاسی اور مادی شکایتیں تھیں۔ ان شکایتوں کو پرامن طریقِ کار کے ذریعہ حل کیا جاسکتا تھا مگر پرجوش رہنماؤں نے فوراً جہاد کے نام پر ہتھیار اٹھالیے اور دوسری قوموں کے خلاف مسلح لڑائی شروع کردی۔ اس خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں نہ صرف جدید امکانات ضائع ہوگئے بلکہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اتنی بڑی تباہی سے دوچار ہوئے، جیسی تباہی ماضی کی طویل تاریخ میں اُن کے ساتھ کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان بیسویں صدی کو کھو چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی ان غلطیوں کی اصلاح کریں گے یا موجودہ صدی کو بھی وہ اُسی طرح کھودیں گے جس ہے۔ وہ اپنی اس نسل کی اس طرح طرح وہ پچھلی صدی کو کھو چکے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader