جنگ اسلام میں
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ اسلام میں بعض "مفکرینِ اسلام" کا کہنا ہے کہ اسلام میں جنگ کی دو قسمیں ہیں - مصلحانہ جنگ اور مدافعانہ جنگ۔ مگر یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ اس نظریہ کے لیے قرآن اور حدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں صرف ایک جنگ ہے اور وہ مدافعانہ جنگ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مصلحانہ تحریک ہوتی ہے، مصلحانہ جنگ نہیں ہوتی۔ مصلحانہ جنگ قرآن وسنت کے پورے ذخیرے میں ایک اجنبی چیز ہے۔ اس کا ماخذ شاعروں اور خطیبوں اور انشاپردازوں کی طبع آزمائیاں ہیں، نہ کہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ مشہور حدیث کے مطابق ہر قسم کی اصلاح کا مدار قلب پر ہے۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ بس طرح جسمانی نظام میں قلب کی اصلاح سے پورے جس کی اصلاح ہوتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 52) ۔ وہی معاملہ دینی نظام کا بھی ہے۔ انسان کو اصلاح یافتہ بنانے کی صورت یہ ہے کہ قلب یا ذہن کی سطح پر اس کے اندر اصلاح لائی جائے۔ اس حدیث کے مطابق مصلحانہ تحریک (نہ کہ مصلحانہ جنگ) کا اصول یہ ہے کہ ساری طاقت انسان کے فکر وشعور کو بدلنے پر صرف کی جائے_ دلائل کے ذریعہ آدمی کی سوچ کو بدلنا۔ جنت اور جہنم کی باتو کے ذریعہ اس کے قلب میں نرمی پیدا کرنا، خدا کی نشانیوں کی یاد دہانی کے ذریعہ اس کی ربانی فطرت کو جگانا۔ یہ ہے انسانی اصلاح کا طریقہ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں مصلحانہ تحریک بھی کہا جا سکتا ہے۔ جنگ کا مقصد ہمیشہ خارجی رکاوٹ کو دور کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انسان کے اندر باطنی کیفیت پیدا کرنا۔ باطنی کیفیت یا باطنی شعور کا ذریعہ صرف وعظ و تلقین ہے، اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم ہے اور وہ دفاع (defence) ہے۔ اگر کوئی کردہ اہل اسلام کے خلاف جارحیت کرے تو حسب استطاعت اس سے مقابلہ کیا جائے گا خواہ یہ مقابلہ کھلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader