امن عالم
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ عام حالات میں اسلام کا طریقہ پر امن دعوت کا طریقہ ہے، اور جارحیت کی صورت میں مسلح مقابلہ کا طریقہ۔ ایک مطالعہ صلح حدیبیہ (7 ھ) کے بعد جب حالات معتدل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر مختلف علاقوں میں تبلیغی دستے روانہ فرمائے۔ انھیں میں سے ایک تبلیغی دستہ وہ تھا جو مدینہ کے شمال میں شام کی سرحد سے ملے ہوئے علاقہ کی طرف بھیجا گیا۔ یہاں عیسائی قبائل آباد تھے اور وہ رومی (بازطینی) حکومت کے ماتحت تھے۔ اس تبلیغی وفد میں پندرہ آدمی تھے اور ان کے سردار کعب بن عمیر الغفاری تھے۔ وہ شام کے قریب ذات اطلاع میں پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مقام پر کافی لوگ جمع ہیں۔ انھوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر انھوں نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا۔ بلکہ ان پر تیر برسانے لگے (فَدَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَشَقُوهُمْ بِالنَّبْلِ) مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 753۔ اس یک طرفہ حملہ میں بارہ مسلمان شہید ہو گئے ۔ صرف ایک آدمی زخمی حالت میں مدینہ واپس آیا۔ شامی سرحد پر بسنے والے ان عیسائیوں کا حملہ، بالواسطہ طور پر رومی سلطنت کا حملہ تھا۔ اس طرح رومی سلطنت نے سب سے پہلے اسلام کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحارث بن عمیر الازدی کو ایک دعوتی مکتوب لے کر حاکم بصرئ کی طرف روانہ کیا، جب وہ موتہ (شام) میں پہنچے تو ان کی ملاقات شُر حبیل ابن عمر والغسانی سے ہوئی ۔ اس نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ حا کم بصرئ کے پاس۔ اس نے کہا، شاید تم محمد کے فرستادہ ہو۔ انھوں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا اور انھوں نے الحارث بن عمیر کو تلوار مار کر قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ قتل حاکم بصرئ کے اشارہ پر کیا تھا (الرسول فی المدینہ، صفحہ 229)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader