ایک مطالعہ
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
شرحبیل بن عمر والغسانی عیسائی تھا اور وہ رومی حکومت کا ایک افسر تھا۔ اس کا یہ فعل بین اقوامي روایت کے مطابق ، اقدام جنگ کے ہم معنی تھا۔ اس نے تین ہزار افراد کا ایک لشکر تیار کیا اور جمادی الاولی 8 ھ میں اس کو موتہ (شام) کی طرف روانہ فرمایا۔ شرحبیل کو جب مسلم لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو اس نے ایک لاکھ آدمیوں کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع کیا۔ اس کے ساتھ خود شاہ ہر قل ایک لاکھ فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لیے بلقاء کے مقام پر پہنچا۔ تین ہزار اور دو لاکھ کا تناسب بہت زیادہ غیر مساوی تھا۔ یہ مقابلہ فیصلہ کن نہ بن سکا، تا ہم مسلمانوں نے اتنی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا کہ رومیوں کے اوپر مسلمانوں کی فوجی صلاحیت کا رعب قائم ہو گیا۔ مستشرق واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ اس کا اقتباس ڈاکٹر علی حسنی الخربوطلی نے اپنی کتاب "الرسول في المدینہ" میں نقل کیا ہے۔ واشنگٹن ارونگ نے لکھا ہے کہ عرب میں اسلام کی اشاعت سے جب عرب کے بکھرے ہوئے قبائل متحد ہو گئے تو شہنشاہ ہر قل کو یہ عرب اتحاد اپنے لیے خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے طے کی کہ ایک بڑا لشکر تیار کرے، اور اپنے اس "امکانی دشمن" پر حملہ کر کے اس کو کچل ڈالے چنانچہ اس نے عرب کی سرحد پر اپنی فوجیں جمع کرنا شروع کر دیا۔ (صفحہ 232) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اطراف کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ ہر قل نے سرحد عرب پر فوجیں جمع کی ہیں تا کہ عرب پر حملہ کر کے اسلام کا زور توڑ دے تو آپ نے فوراً جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ مہم پیش آئی جس کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے۔ آپ نے مسلسل وعظ و تلقین کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مہم کے لیے نکلیں ۔ چنانچہ سخت حالات کے باوجود 30 ہزار آدمیوں کا لشکر اس مہم کے لیے تیار ہو گیا۔ اس سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، ان میں ایک واقعہ یہ ہے: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّ مَا يَخْرُجُ فِي غَزْوَةٍ إِلَّا كَنَّى عَنْهَا إِلَّا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader