Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں نہیں۔ اس اصول کے مطابق، پراکسی وار(proxy war) اسلام میں جائز نہیں۔ اسلام کے تمام اعمال کی کچھ شرائط ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جنگ کے لیے بھی کچھ لازمی شرائط ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جنگ خواہ کوئی باقاعدہ مسلم حکومت کرے، اور خواہ وہ دفاعی ہو، تب بھی اس جنگ کا نشانہ جارح لوگوں تک محدود ہوگا۔ یعنی اس جنگ میں مسلمانوں کی فوج صرف مقاتلین (combatants) پر وار کرسکتی ہے، غیر مقاتلین (non combatants) کو اپنے حملہ کا نشانہ بنانا پھر بھی جائز نہ ہوگا۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جنگ نہ کرو جنہوں نے تم سے جنگ نہیں کی۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تم حسن سلوک اور انصاف کا معاملہ کرو۔ البتہ جن لوگوں نے تم سے جنگ کی ان سے جنگ کرنے کے لیے تم آزاد ہو۔ ان کے ساتھ تمہارا معاملہ دوستی کا معاملہ نہیں (60:8-9) اگر بالفرض کسی قوم کے ساتھ مسلم حکومت کی جنگ چھڑ جائے اور یہ جنگ اسلامی شرائط کے مطابق ہو تب بھی مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف اس قسم کی تخریبی کارروائی کریں جیسی تخریبی کارروائی مثال کے طور پر، 11 ستمبر 2001 ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں کی گئی۔ اسی طرح جائز اسلامی جنگ میں بھی مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ فریق ثانی پر خودکش بمباری کریں۔ یعنی بالقصد اپنے جسم پر بم باندھ کر فریق ثانی کی فوجی یا شہری آبادی پر ٹوٹ پڑیں اور جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کرکے فریق ثانی کو ہلاک کریں۔ اس قسم کا معاملہ ہرگز شہادت یا استشہاد نہیں۔ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں ہے۔ دشمن اور جارح کا فرق اللہ نے اپنی حکمتِ امتحان کے تحت دنیا میں انسان کو آزادی دی ہے۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں قائم ہوتی ہیں (طٰہ، 20:123)۔ حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ مگر اسلام میں دشمنی اور جنگ دونوں میں واضح فرق کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page