ایک مطالعہ
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
مَا كَانَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ فَإِنَّهُ بَيِّنَهَا لِلنَّاسِ ... فَأَمَرَهُمْ بِالْجِهَادِ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ يُرِيدُ الرُّومَ (البداية والنهاية، جلد 5، صفحہ 3) ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لیے نکلتے تو زیادہ تر آپ اشارہ اور کنایہ سے کام لیتے مگر غزوہ تبوک میں آپ نے اس سے مختلف طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کی بارے میں آپ نے صاف طور پر لوگوں کے سامنے اعلان کیا۔ آپ نے انھیں جہاد کا حکم دیا اور ان کو اس بات کی خبر دی کہ آپ کا قصد روم کی طرف ہے۔ غزوہ تبوک اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس کے بارے میں بہت سی تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس واقعہ کا مطالعہ کیجیے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق جنگ کے بارے میں نہایت اہم اصول سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے دو اصول یہ ہیں: 1۔ ایک یہ کہ تبوک کی مہم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فوجی اقدام بطور دفاع تھا، وہ جارحانہ اقدام کے طور پر نہ تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں جنگی اقدام صرف اس وقت کیا جاتا ہے، جب کہ بطور دفاع ایسا اقدام کرنا ضروری ہو گیا۔ 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ دفاعی اقدام میں بھی ٹکراؤ لازمی طور پر ضروری نہیں ہے۔ اگر اس کا امکان ہو کہ طاقت کے مظاہررے سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ دشمن پیچھے ہٹ جائے اور اپنے جارحانہ ارا دہ سے باز آ جائے تو اپنے اقدام کو مظاہر ہ" کی حد میں رکھا جائے گا، اس کو لازماً جنگی ٹکراؤ تک نہیں لے جایا جائے گا۔ یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عام عادت کے خلاف غزوہ تبوک کی تیاری پورے اعلان و اظہار کے ساتھ کی، اور روانگی میں ہی اخفاء کے بجائے اظہار کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے سرحد شام پہنچنے سے پہلے رومیوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ پیغمبر اسلام 30 ہزار جاں بازوں کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مظاہرہ کا متوقع فائدہ حاصل ہوا۔ رومی حکمران نے مرعوب ہو کر اپنی فوجوں کو پیچھے لوٹنے کا حکم دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومی فوجوں کی پسپائی کا علم ہوا تو آپ بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader