ایک مطالعہ
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید اقدام سے رک گئے (الرسول فی المدینہ، صفحہ 234)۔ اسلام کی عام پالیسی یہی ہے کہ حتی الامکان جنگ سے اعراض کیا جائے۔ یہ پالیسی اسلام کے اصل مقصد و مدعا کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ اسلام کا مقصد لوگوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستے پر ڈالنا ہے، نہ یہ کہ وہ جاہلیت کی جس زندگی میں ہیں، وہیں مار کر انہیں ختم کر دیا جائے۔ ایک تاجر کی نگاہ آدمی کی جیب پر ہوتی ہے۔ ایک جنگ باز کی نگاہ آدمی کی گردن پر۔ اس برعکس، اسلام کی نگاہ آدمی کے دل پر ہوتی ہے۔ اسلام کا مقصد لوگوں کے دلوں کو بدلنا ہے تا کہ وہ اپنے رب کی رحمتوں میں حصہ پاسکیں۔ کوئی شخص خواہ دشمن ہو یا غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ان سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہم اس "انسان" تک پہنچیں، اور اس کے دل کے دروازہ پر دستک دیں۔ کیا عجب کہ اس کی فطری صلاحیت جاگ اٹھے، اور وہ دین حق کے دائرہ میں داخل ہوجائے۔ اس کی مثال خود رومیوں کے قصہ میں موجود ہے۔ عین اس زمانہ میں جب کہ رومیوں سے کش مکش چل رہی تھی، اسی زمانہ میں رومیوں کی اعلی صف کے ایک آدمی نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ فروہ بن عمرو الجذامی (م 12ھ) تھے ۔ وہ ایک عیسائی تھے اور بنو النافرۃ کے اوپر رومیوں کی طرف سے حاکم تھے۔ بنو النافرۃ کے لوگ خلیج عقبہ اور ینبع کے درمیان رہتے تھے۔ جب اسلام کا ظہور ہوا اور اس کی خبریں عرب میں پھیلیں تو فروہ اس سے متاثر ہوگئے ۔ آخر کار انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ فروۃ الجذامی نے اپنے قبول اسلام کی اطلاع ایک قاصد کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی۔ اور ہدیہ کے طور پہ ایک سفید خچر بھی آپ کے لیے روانہ کیا۔ رومی حکمراں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے فروہ کو اپنے پاس بلا کر انھیں قید میں ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ فروہ کو فلسطین میں عفراء نامی ایک چشمہ کے پاس لے گئے اور تلوار مار کر انھیں قتل کر دیا۔ رومی جب فروہ کو قتل کے مقام پر لائے تو فروہ نے یہ شعر کہا: بَلِّغْ سَرَاةَ المُسْلِمِينَ بِأَنَّنِي سِلْمٌ لِرَبِّي أَعْظُمِي وَمَقَامِي

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader