Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اہل اسلام کو یہ حق نہیں کہ وہ جس کو اپنا دشمن سمجھیں اس کے خلاف وہ جنگ چھیڑ دیں۔ دشمن کے مقابلہ میں اہل اسلام کو صرف پر امن دعوت کا کام کرنا ہے، نہ کہ ان سے جنگ چھیڑ دینا۔ اس سلسلہ میں قرآن میں واضح حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت،34-33: 41)۔ گویا اسلام میں دشمن کو پر امن کوشش کے ذریعہ اپنا دوست بنانا ہے، نہ کہ اس کو دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کرنا۔ اسلام میں جنگ کی اجازت ہے مگر یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب کہ اعراض کے باوجود فریق ثانی حملہ کر دے اور حقیقی دفاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) یعنی ان لوگوں کو لڑنے کی اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جاتی ہے اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا۔ قرآن میں دوسری جگہ جنگ کی اجازت دیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فریق ثانی ہے جس نے کہ پہلی بار جنگ کی ابتدا کی (التوبہ، 9:13)۔ معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ، جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حملہ آور کے خلاف ہے۔ مسلمان اگر کسی کو اپنا دشمن سمجھیں تو ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس کے خلاف حملہ کر دیں۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اول و آخر جو حق دیا گیا ہے وہ پر امن دعوت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ متشددانہ جارحیت کے خلاف دفاعی جنگ اسلام میں جائز ہے، مگر وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہوں۔ پیغمبر اسلام کا عملی نمونہ اس کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ جنگ ایک غیر مطلوب شے اسلام کے لیے جنگ کا ماحول اتنا ہی غیر مطلوب ہے جتنا کہ تجارت کے لیے نفرت و تشدد کا ماحول غیر مطلوب ہے۔ تجارت امن اور اعتدال کے ماحول میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام کے مقاصد صرف امن کے حالات اور نارمل تعلقات میں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page