Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

حوالہ ہے جب کہ قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں کو متعین طور پر کافر قرار دے کر کہا گیا کہ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (109:1)۔ اس انداز کا مشخص خطاب قرآن میں کسی بھی دوسرے گروہ کے لیے نہیں آیا ہے۔ یعنی قرآن میں اس ایک استثناء کو چھوڑ کر فعل کفر کا ذکر تو ہے مگر مشخص طور پر کسی کو فاعل کفر کا درجہ نہیں دیا گیا۔ دارالحرب کی اصطلاح دارالحرب کی اصطلاح دورِ عباسی میں بننے والی فقہ میں ضرور استعمال ہوئی ہے مگر یہ اصطلاح قرآن اور حدیث میں مذکور نہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ دارالحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی اصطلاح ہے، وہ کوئی منصوص اصطلاح نہیں۔ اور جو نظریہ اجتہادی ہو اُس کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ وہ صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ میرے نزدیک دارالحرب کی اصطلاح ایک اجتہادی خطا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے کسی بھی علاقہ کو دارالحرب قرار نہیں دیا۔ اگر قرآن وسنت میں اجتہاد کر کے اس سلسلہ میں کوئی اصطلاح بنائی جائے تو وہ صرف ایک ہوگی، اور وہ دارالدعوہ ہے۔ یہی اسلامی روح کے مطابق ہے۔ اسلام ہر قوم کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے، خواہ اہلِ اسلام کا تعلق اُن سے امن کا ہو یا حرب کا۔ اس لیے صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق، صرف دو اصطلاحیں درست ہیں— دارالاسلام اور دارالدعوہ۔ اس کے سوا جو بھی اصطلاحیں بولی گئی ہیں وہ سب میرے نزدیک اجتہادی خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔ مثلاً دارالحرب، دارالكفر، دارالطاغوت، وغیرہ۔ جہاد کا تصور کچھ مسلمانوں کی غلط تعبیر کے نتیجہ میں، جہاد کا تصور یہ بن گیا ہے کہ جہاد کا مطلب ہے، مسلحانہ جنگ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان دنیا میں خدا کے خلیفہ ہیں۔ مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی نیابت میں خدا کی حکومت دنیا میں قائم کرے۔ وہ خدا کی طرف سے لوگوں کو خدا کے احکام کا پابند بنائے ۔ اُن کے نزدیک اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔ جہاد کا یہ تصور بلا شبہ بے اصل ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page