امن عالم
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ ؓ أیّھا الناس لا تمنّوا لقاء العدو، و سلوا الله العافیۃ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1742 ؛ ابوداؤد، حدیث نمبر 2631 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 19114) یعنی اے لوگو، تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ تم اللہ سے امن مانگو۔ جنگ کرنے والے ہمیشہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور سیاسی اقتدار اسلام میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے حصول کے لیے جنگ کی جائے۔ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار اہل اسلام کا نشانہ نہیں بلکہ وہ ایک امرِ موعود (النور، 24:55) ہے۔ قرآن کے مطابق، اقتدار کا مالک اللہ ہے، وہی جس کو چاہتا ہے اسے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے اس کو چھین لیتا ہے (آل عمران، 3:26)۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار اور سیاسی فتح کبھی ایک کے حصہ میں آتی ہے اور کبھی دوسرے کے حصہ میں (آل عمران، 3:140)۔ اس قرآنی حقیقت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا ملنا یا سیاسی اقتدار کا چھینا جانا دونوں فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں، اقتدار نہ کسی گروہ کو اس کی کوشش سے ملتا ہے اور نہ کسی دوسرے گروہ کی سازش اس کو کسی سے چھین سکتی ہے۔ جنگ کے بغیر فتح پیغمبر اسلام کی زندگی میں ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ (628ء) کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام اس وقت مدینہ میں تھے اور مکہ اہل شرک کے قبضہ میں تھا جو اس وقت آپ سے برسرِ جنگ تھے۔ پیغمبر اسلام نے عمرہ کی عبادت کے لیے مکہ جانا چاہا کیوں کہ کعبہ مکہ میں ہے، اس بنا پر عمرہ کی عبادت مکہ ہی میں ادا کی جاتی ہے۔ آپ کا یہ سفر خالص عبادتی سفر تھا۔ مگر مکہ والوں نے اس کو اپنے لیے عزت (prestige) کا سوال بنالیا۔ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور کہا کہ آپ یہاں سے واپس جائیں۔ یہ بحث یہاں تک بڑھی کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس وقت پیغمبر اسلام کے ساتھ چودہ سو مسلمان تھے۔ اگر یہ لوگ اس پر اصرار کرتے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں گے تو یقینی طور پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ مگر پیغمبر اسلام نے مشرکین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader