ہائی جیکنگ ایک مجرم
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اگر فریقِ ثانی ہمارے کسی آدمی کو یرغمال بنا لے تب بھی ہمیں فریقِ ثانی کے آدمی کو یرغمال بنانا جائز نہیں۔ کیوں کہ یہ معصوم افراد سے انتقام لینے کے ہم معنی ہے اور معصوم افراد پر ظلم کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھانا بلاشبہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔ 3۔ جو لوگ ہائی جیکنگ کرتے ہیں وہ اپنے مجرمانہ مقصد کو پورا کرنے کے لیے اکثر بے قصور مسافروں کو قتل بھی کر ڈالتے ہیں۔ اس قسم کا قتل بلاشبہ انتہائی سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص کسی ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کرے، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا (المائدہ، 5:32)۔ اس اعلانِ خداوندی کے باوجود جو لوگ بے قصور مسافروں کو قتل کریں یا ان کو ستائیں ان کے دل بلاشبہ خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ اور جس دل کے اندر خدا کا خوف نہ ہو وہ یقینی طور پر ایمان سے بھی خالی ہوگا۔ ہوائی جہاز میں جو مسافر سفر کر رہے ہوتے ہیں، واضح طور پر وہ بے قصور ہوتے ہیں۔ ہائی جیکروں کے ساتھ ان کا کوئی بھی نزاعی معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں ان کے سفر میں رکاوٹ ڈالنا، ان کو ستانا، یا ان کو قتل کرنا، یہ سب کا سب اسلام میں حرام ہے، حتیٰ کہ اگر بالفرض کسی مسافر نے کوئی غلطی کی ہو تب بھی اس کی غلطی پر سزا دینے کا اختیار صرف باقاعدہ عدالت کو ہے۔ کوئی بھی غیر عدالتی آدمی قصور وار کو بھی سزا دینے کا حق نہیں رکھتا۔ پھر بے قصور مسافروں کو سزا دینا تو اور بھی زیادہ غیر اسلامی فعل قرار پائے گا۔ 4۔ اسلام میں دھوکہ دینا مطلق طور پر حرام ہے، خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو۔ موجودہ زمانہ کی ہائی جیکنگ مکمل طور پر دھوکہ کا ایک فعل ہے۔ ہائی جیکنگ کرنے والے ہائی جیکنگ کے ہر اسٹیج پر لوگوں کے ساتھ دھوکہ کا معاملہ کرتے ہیں۔ فرضی پاسپورٹ بنوانا، جعلی کرنسی استعمال کرنا، ائیرپورٹ پر عملہ کو دھوکہ دے کر خطرناک ہتھیار جہاز میں پہنچانا، متعلق افراد کو دھوکہ دے کر جہاز کے اندر داخل ہونا، وغیرہ۔ یہ سارا عمل جھوٹ اور دھوکہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اور جھوٹ اور دھوکہ اسلام میں انتہائی سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader