Urdu book · امن عالم

ہائی جیکنگ ایک مجرم

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں صرف کھلے معاملہ کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام میں اس مجرمانہ کارروائی کے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ لوگوں کو فریب دے کر اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ حتیٰ کہ اگر ایک مسلم ملک کے تعلقات دوسرے ملک سے امن کی بنیاد پر قائم ہوں اور پھر مسلم ملک کسی وجہ سے اس ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہے تو مسلم ملک پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اپنے اس فیصلے کا کھلا اعلان کرے اور یہ کہے کہ آج سے ہم اور تم برسر جنگ ہیں (الانفال، 8:58)۔ در پردہ جنگ یا پراکسی وار (proxy war) اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔ جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر اپنا مقصد حاصل کرنا انسانی نقطہ نظر سے بھی ایک پست حرکت ہے۔ اور اسلامی نقطۂ نظر سے بھی وہ ایک گناہ عظیم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من غشنا فليس منا (صحیح مسلم حدیث نمبر 101)۔ یعنی جو شخص دھوکہ کا معاملہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ 5۔ ہائی جیکنگ میں جان اور مال دونوں کا نقصان شامل ہے۔ ایک طرف ایک پورا ہوائی جہاز ہے جس کی قیمت کروڑوں روپیہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں جہاز میں گھس کر یہ دھمکی دینا کہ ہماری مانگیں پوری کرو ورنہ ہم جہاز کو بم سے اڑا دیں گے، یہ مال کا غضب بھی ہے اور دوسرے کے مال کو ناحق تلف کرنا بھی۔ جہاز میں عام طور پر سیکڑوں آدمی سوار رہتے ہیں اور یہ سب بے قصور ہوتے ہیں اس لیے جہاز کو تباہ کرنے کا ہر منصوبہ سیکڑوں بے گناہ لوگوں پر ظلم اور قتل کے ہم معنی ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کا ہر فعل خودہائی جیکرس کے لیے بھی خودکشی کے اقدام کے برابر ہے جو خود بھی اتنی بری چیز ہے کہ اسلامی شریعت میں بتایا گیا ہے کہ جو آدمی جان بوجھ کر اپنے آپ کو مارے وہ حرام موت مرا۔ اور حرام موت سے بری کوئی موت اسلام میں نہیں۔ ہائی جیکنگ کا خونیں ڈرامہ کرنے والے اپنے اس فعل کو اسلامی جہاد قرار دیتے ہیں۔ یہ توجیہہ بلاشبہ مجرمانہ حد تک غلط ہے۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ اسلامی جہاد اللہ کے راستہ میں دفاعی طور پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ لوگ جو نام نہاد جنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page