ہائی جیکنگ ایک مجرم
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
لڑ رہے ہیں وہ ملک اور مال کے لیے ہے۔ ملک اور مال کے لیے جو جنگ لڑی جائے وہ ہرگز جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہو سکتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک قائم شدہ ریاست کا فعل ہے، نہ کہ عام افراد کا۔ موجودہ جنگ کی صورت یہ ہے کہ اس کو عام افراد چھیڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ عام افراد کو اسلامی نقطہ نظر سے یہ حق ہی حاصل نہیں۔ عام افراد اگر جنگ چھیڑیں تو یہ ان کے لیے ایک فعل حرام کا ارکاب ہوگا۔ ایک قائم شدہ ریاست جارحیت کی صورت میں دفاعی جنگ لڑ سکتی ہے مگر ایسی دفاعی جنگ بھی اس وقت اسلامی جنگ ہوگی جب کہ وہ کھلے اعلان کے ساتھ لڑی جائے۔ اعلان کے بغیر کسی کے خلاف پر کسی وار چھیڑنا اور اس کو جھوٹ کے بل پر چلانا اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں حقوق کی دو قسمیں کی گئی ہیں ــــ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ حقوق اللہ سے مراد وہ ذمہ داریاں ہیں جو خدا کی نسبت سے بندے پر عائد ہوتی ہیں۔ اگر کوئی بندہ حقوق اللہ کے معاملہ میں کوتاہی کرے تو اس کی تلافی کے لیے معافی مانگنا ہی کافی ہو جاتا ہے۔ مگر حقوق العباد کا معاملہ بے حد سنگین ہے۔ حقوق العباد میں غلطی کرنے کا معاملہ انسانوں سے ہوتا ہے۔ جو آدمی انسان کے معاملہ میں کوئی جرم کرے تو صرف خدا سے معافی مانگنا اس کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ خدا سے معافی مانگنے کے ساتھ اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ متعلق لوگوں سے بھی معافی مانگے اور اس نقصان کی تلافی کرے جو اس نے انہیں پہنچایا ہے۔ ہائی جیکنگ کا تعلق بلا شبہ حقوق العباد سے ہے۔ یہ انسان کے مقابلہ میں ظلم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہائی جیکروں پر لازم ہے کہ وہ ستم زدہ انسانوں سے باقاعدہ طور پر اس کی تلافی کریں۔ ورنہ وہ خدا کے نزدیک ناقابل معافی مجرم قرار پائیں گے، خواہ وہ بظاہر نماز روزہ کیوں نہ ادا کر رہے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader