کشمیر میں امن
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیر میں امن زیر نظر مجموعہ کشمیر گائیڈ کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔ میں تحریری اعتبار سے 1968 سے کشمیر سے وابستہ رہا ہوں۔ اول دن سے میری یہ رائے ہے کہ کشمیر کو غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے تباہ کیا ہے، اور اب حقیقت پسندانہ سیاست کے ذریعہ اس کو دوبارہ ایک ترقی یافتہ کشمیر بنایا جا سکتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی موجودہ نفسیات یہ ہے کہ وہ ہر ایک سے بیزار ہو چکے ہیں۔ وہ بے اعتمادی کی فضا میں جی رہے ہیں۔ زیر نظر مجموعہ کا مقصد یہ ہے کہ ان کو اس بے اعتمادی کی فضا سے نکالا جائے اور انہیں حوصلہ اور اعتماد پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔ کشمیریوں کے لیے اس نئی زندگی کا آغاز ہر لمحہ ممکن ہے۔ مگر اس کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ اول یہ کہ آج وہ جس ناخوش گوار صورت حال سے دوچار ہیں، اس کا ذمہ دار وہ خود اپنے آپ کو ٹھہرائیں۔ جب تک وہ اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے رہیں گے، ان کے لیے نئی زندگی کا آغاز ممکن نہیں۔ دوسری ضروری بات یہ ہے کہ وہ مفروضات کی دنیا سے نکلیں اور عملی حقائق کی دنیا میں جینا شروع کریں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان کے نااہل لیڈروں نے انہیں جن خوش فہمیوں میں مبتلا کیا تھا ان سے وہ باہر آئیں ۔ وہ حالات موجودہ سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی تعمیر کا نیا منصوبہ بنائیں ۔ حالات کا فیصلہ ہے کہ وہ آزادانہ طور پر، نہ کہ مجبورانہ طور پر، یہ جرأت مندانہ فیصلہ کریں کہ تقدیر نے ان کو انڈیا کا ایک حصہ بنا دیا ہے اور اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی ممکن صورت نہیں کہ وہ خوش دلی کے ساتھ تقدیر کے اس فیصلہ کو قبول کر لیں۔ مزید یہ کہ یہ ان کے لیے کوئی برائی نہیں، وہ یقینی طور پر ان کے لیے ہر اعتبار سے خیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں آزادی اور جمہوریت ہے۔ یہاں تقریباً بیس کروڑ کی تعداد میں ان کے ہم مذہب مسلمان رہتے ہیں۔ برصغیر ہند کے تمام بڑے اسلامی ادارے انڈیا میں قائم ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader