کشمیر میں امن
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا میں اس علاقہ کے مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ کے نقوش موجود ہیں جو اس علاقہ کے مسلمانوں کو زندگی کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ انڈیا میں دعوت دین کے وہ عظیم مواقع موجود ہیں جن کی انجام دہی پر حدیث میں نجات آخرت کی خوش خبری دی گئی ہے۔(سنن النسائی، حدیث نمبر 3175، مسند احمد، حدیث نمبر 8823) ایک بار میں چند دن کے لیے کراچی میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک مسلم صنعت کار سے ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ انڈیا میں ہم سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دیکھیے، پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے۔ اگر ہم کوئی پروڈکٹ تیار کریں تو اس کو مارکیٹ کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت محدود دنیا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، انڈیا بہت بڑا ملک ہے۔ انڈیا میں اگر آپ کوئی پروڈکٹ تیار کریں تو اس کو مارکیٹ کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک نہایت وسیع دنیا موجود ہوتی ہے۔ مذکورہ مسلم تاجر کی یہ بات اب ایک واقعہ بن چکی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر انڈیا کے مسلمان پورے برصغیر ہند کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان بن چکے ہیں۔ یہ بات بلا مبالغہ درست ہے اور کسی بھی شہر کا تقابلی سروے کر کے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس واقعہ کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ آج نہ صرف برصغیر ہند بلکہ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی ہندوستان میں پایا جاتا ہے، یعنی بنگلور کے مسٹر عظیم ہاشم پریم جی۔ کشمیر کے مسلمان اگر دل کی آمادگی سے انڈیا کے ساتھ مل جائیں تو ان کے لیے ہر قسم کی ترقی کے شاندار مواقع کھل جائیں گے۔ تعلیم، اقتصادیات اور دوسرے تمام ترقیاتی شعبوں میں یہاں ان کے لیے ترقی کے جو امکانات ہیں وہ کسی بھی دوسرے مقام پر نہیں۔ مزید یہ کہ سیاست کے اعتبار سے انڈیا میں ان کے لیے ترقی کے عظیم مواقع موجود ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میرا ایک مضمون اردو اور ہندی اور انگریزی اخباروں میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے لکھا تھا کہ کشمیر کے مسلمان اگر ٹکراؤ کی پالیسی چھوڑ دیں اور ہندوستان کو دل سے قبول کرتے ہوئے اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader