Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

حصہ بن جائیں تو آئندہ جمہوری ہندوستان میں جو پہلا مسلم وزیر اعظم بنے گا وہ ایک کشمیری مسلمان ہوگا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں مجھے کوئی شبہ نہیں — اگلے صفحات میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ مختلف پہلوؤں سے اسی حقیقت کی تفصیل و تشریح ہے۔ کشمیری قیادت کشمیر کے مسئلہ پر میں اس کے آغاز ہی سے سوچتا رہا ہوں۔ اللہ کی توفیق سے میں نے ابتداء میں اس معاملہ میں جو رائے قائم کی تھی وہی رائے آج بھی مجھ کو درست نظر آتی ہے۔ اللہ کے فضل سے اس معاملہ میں مجھے کبھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مطبوعہ ریکارڈ کے مطابق، اس موضوع پر میں 1968 سے لکھتا رہا ہوں۔ اس کے بارے میں غالباً میری پہلی تحریر وہ ہے جو الجمعیۃ ویکلی میں چھپی تھی۔ یہاں یہ تحریر الجمعیۃ کے صفحات سے لے کر نقل کی جا رہی ہے: ”اپنا حق وصول کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ فیصلے کا سرا اپنے ہاتھ میں ہو۔ مگر ہمارے لیڈر اس وقت ہوش میں آتے ہیں جب کہ ان کا کیس اخلاقی کیس بن چکا ہو‘ — یہ احساس مجھے اکثر اس وقت ہوتا ہے جب کہ میں کشمیری لیڈر شیخ عبد اللہ کی تقریر پڑھتا ہوں۔ شیخ صاحب ایک مخلص کشمیری ہیں۔ اپنی جرات اور قربانیوں کی وجہ سے وہ بجاطور پر شیر کشمیر کہلانے کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی موجودہ کشمیری مہم مجھے مشتے بعد از جنگ سے زیادہ نظر نہیں آتی۔ 1947 میں وہ اس پوزیشن میں تھے کہ اگر وہ حقیقت پسندی اختیار کرتے تو اپنا فیصلہ خود اپنی مرضی کے مطابق کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے فیصلے کے وقت کو غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھو دیا۔ اب جب کہ فیصلے کا سرا ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ اب ان کی چیخ و پکار کی حیثیت محض اخلاقی دہائی کی ہے، اور اخلاقی دہائی اس دنیا میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ ایک نوجوان نے ایک مرتبہ دکان کھولی۔ ابھی انہوں نے زندگی میں پہلی بار قدم رکھا تھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ دنیا میں کس قسم کے تحفظات کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ دکان میں ایک معمولی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page