Urdu book · امن عالم

کشمیری قیادت

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

تالا لگانا شروع کیا۔ ایک روز وہ دکان سے اداس حالت میں لوٹے ۔ یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے پوچھا ”کیا بات ہے۔ آج اُداس نظر آرہے ہو۔“ ”دکان میں چوری ہوگئی۔“ نوجوان نے کہا۔ ”کیسے؟“ ”تالا معمولی تھا۔ کوئی شخص رات میں کھول کر سامان نکال لے گیا۔“ ”یہ تو تمہاری غلطی تھی۔“ ”جی ہاں۔ اب تجربہ ہوا کہ دکان میں تالا اچھے قسم کا لگانا چاہیئے۔“ یہ سن کر بزرگ نے فرمایا۔ ”یہ بھی کوئی تجربہ کے بعد معلوم ہونے کی چیز ہے ۔ جب تم دکانداری کی لائن میں داخل ہوئے تو تمہیں اول دن سے جاننا چاہیے تھا کہ دکان میں تالا مضبوط لگایا جاتا ہے۔“ دکان اور اس طرح کے دوسرے شخصی معاملات میں تو اس کا بھی امکان ہے کہ آدمی ایک بار ٹھوکر کھا کر دوبارہ سنبھل جائے ۔ مگر قومی فیصلوں کی نوعیت بالکل جدا گانہ ہے۔ شخصی معاملات میں ایک بار نقصان اٹھانے کے بعد یہ بھی امکان رہتا ہے کہ محنت کر کے آدمی دوبارہ حالات کو اپنے موافق بنالے۔ مگر قومی معاملات میں جب فیصلہ کا سرا ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو مسئلہ بے حد پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پھر تو زمین و آسمان کی نئی کروٹیں ہی اس کو بدل سکتی ہیں۔ قومی قیادت ایک ایسا کام ہے جو ان لوگوں کے کرنے کا ہے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکیں ۔ باقی وہ لوگ جن کی نگاہیں صرف ماضی اور حال تک جاتی ہوں اور مستقبل انہیں صرف اس وقت نظر آئے جب وہ واقعہ بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا ہو، ایسے لوگ قوموں کی قیادت نہیں کر سکتے۔ البتہ اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے قوموں کو مسائل میں الجھانے کا فرض ضرور انجام دے سکتے ہیں۔“ (الجمعیتہ ویکلی، نئی دہلی، 14 جون، 1968، صفحہ 4)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page