امن عالم
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مطالبہ کو مان لیا اور دس سال کا امن معاہدہ کر کے حدیبیہ سے مدینہ واپس آگئے۔ معاہدہ حدیبیہ بظاہر مقابلہ کے میدان سے واپسی کا معاہدہ تھا۔ مگر جب یہ معاہدہ ہو گیا تو قرآن میں اس کو اہل اسلام کے حق میں فتح مبین (الفتح، 48: 1) قرار دیا گیا۔ اُس وقت کے حالات میں اس کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے اپنے حریف سے جنگ نہ کر کے ان کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ اس کا مطلب کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنگ سے اعراض کر کے اور امن کا معاہدہ کر کے اہل اسلام کو یہ موقع (opportunity) حاصل ہو گیا کہ وہ اپنی طاقتوں کو جنگ میں ضائع ہونے سے بچائیں اور اس کو مکمل طور پر تعمیر اور استحکام میں لگائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے معاہدہ امن کے بعد دو سال کے اندر اہل اسلام نے اپنے آپ کو اتنا مستحکم بنا لیا کہ وہ اس حیثیت میں ہو گئے کہ کسی باقاعدہ لڑائی کے بغیر صرف پر امن تدبیر کے ذریعہ مکہ پر فتح حاصل کر لیں۔ ’’جنگ کے بغیر فتح‘‘ کا یہ اصول بلاشبہ اسلام کا ایک نہایت اہم اصول ہے۔ یہ اصول فطرت کے اٹل نظام پر قائم ہے۔ وہ افراد اور گروہوں کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ حکومتوں کے لیے۔ اس اصول کو ایک جملہ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے — ٹکراؤ سے اعراض کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ Avoid the confrontation, and avail the opportunities. قتال برائے ختم فتنہ قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (39: 8) ۔ یعنی اور ان سے سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ اس آیت کے دو حصے ہیں۔ یہاں ایک ہی بات کو پہلے منفی اور اس کے بعد مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کی حالت کو اس طرح ختم کر دو کہ پوری طرح غیر فتنہ کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کی پیدا کردہ مصنوعی حالت نہ رہے بلکہ خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader