امن عالم
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد میں اسی انداز سے مسلسل کشمیر کے بارے میں لکھتا رہا ہوں۔ پچھلے 35 سال میں کشمیر کے موضوع پر میں نے جو کچھ لکھا ہے ان کو اگر یکجا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ میری اس طویل کوشش سے ہزاروں کشمیریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ ہزاروں لوگ جنگجوئی کا مزاج ختم کر کے تعلیم و ترقی کے میدان میں مثبت طور پر سرگرم ہیں۔ اس سلسلہ میں مجھے کشمیریوں کی طرف سے مسلسل خطوط اور ٹیلیفون، وغیرہ ملتے رہتے ہیں جن کی تفصیل یہاں بتانے کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی تحریک بظاہر عوام کی طرف منسوب ہوتی ہے، مگر حقیقتاً وہ لیڈر کی تحریک ہوتی ہے۔ ایک یا چند لیڈر اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ عوام کو ابھارتے ہیں اور پھر عوام کے نام سے اپنی لیڈری کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ صورت حال لیڈر کی ذمہ داری کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف اسی شخص کو لیڈر شپ کے میدان میں داخل ہونا چاہیے جس نے وہ ضروری تیاری کی ہو جو اس کو لیڈر شپ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ضروری تیاری کے بغیر جو شخص لیڈر شپ کے میدان میں سرگرم ہو وہ اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہے، خواہ بے شعور عوام کے درمیان اس نے کتنی ہی زیادہ مقبولیت حاصل کرلی ہو۔ کشمیریوں کے لیے آخری وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے اوپر اٹھ کر پورے معاملہ پر از سر نو غور کریں۔ لیڈروں کے الفاظ کی روشنی میں نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں وہ اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں ۔ اس کے سوا ان کے لیے کامیابی کی اور کوئی صورت نہیں۔ فطرت کا سبق دریا کا سامنا چٹان سے ہو تو وہ اپنا راستہ بدل کر آگے بڑھ جاتا ہے مگر نادان انسان چاہتا ہے کہ وہ چٹان کو توڑ کر اپنا راستہ بنائے، خواہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کا سفر ہی ہمیشہ کے لیے رک جائے۔ کشمیر میں انڈیا کے خلاف مسلح تحریک اکتوبر 1989 میں شروع ہوئی۔ اس سے صرف ایک مہینہ پہلے میں نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ وہاں سری نگر کے ٹیگور ہال میں میرا خطاب تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader