Urdu book · امن عالم

فطرت کا سبق

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

کے علاوہ، اس قیام کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ اس کا سفرنامہ میں نے اسی وقت لکھا تھا مگر وہ کسی وجہ سے الرسالہ میں شائع نہ ہو سکا۔ ایک دن میں کچھ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ سری نگر کے باہر کھلی وادی میں گیا۔ ہر طرف فطرت کے خوبصورت مناظر تھے۔ پہاڑ کے اوپر سے پانی کے چشمے بہتے ہوئے میدان میں آ رہے تھے۔ کشمیری مسلمانوں کو لے کر میں ایک چشمہ کے پاس بیٹھ گیا۔ وہاں یہ منظر تھا کہ چشمہ کا پانی بہتا ہوا ایک جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کے سامنے ایک پتھر ہے۔ پانی یہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرے ۔ اس کے برعکس وہ پتھر کے دائیں اور بائیں سے مڑ کر آگے نکل جاتا ہے اور اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ میں نے کشمیری مسلمانوں سے کہا کہ اس کو دیکھیے، یہ آپ کے نام قدرت کا ایک پیغام ہے ۔ اس فطری واقعہ کے ذریعہ آپ کو یہ خاموش پیغام دیا جا رہا ہے کہ تمہاری زندگی کے سفر میں کوئی رکاوٹ کی چیز آجائے تو تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ رکاوٹ سے ٹکرا جاؤ، اور رکاوٹ کی چٹان کو توڑ کر اپنے لیے سیدھا راستہ بناؤ۔ اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہیے کہ رکاوٹ سے اعراض کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھو۔ یہی زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ فرد کا معاملہ ہو یا کسی قوم کا معاملہ، ہر ایک کے لیے تعمیر و ترقی کی واحد تدبیر یہ ہے کہ وہ راستہ کے پتھروں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھے، وہ مسائل سے اعراض کرے اور مواقع کو استعمال کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں کشمیر میں انڈیا کی فوجی یا سیاسی موجودگی کو کشمیریوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں سمجھتا۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں سیاست صرف ایک دردِ سر ہے۔ اور فوج صرف سرحدوں کی چوکیدار۔ 1989 سے پہلے انڈیا کی فوج کشمیر کی سرحدوں پر رہتی تھی، وہ کشمیر کی بستیوں میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ مگر جب اکتوبر 1989 میں کشمیری تحریک کے لوگوں نے اسلحہ اٹھایا اور تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو اس وقت انڈیا کی فوج اس سے مقابلہ کے لیے بستیوں میں داخل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page