امن عالم
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئی ۔ کیوں کہ جنگجو لوگ بستیوں میں رہ کر اپنی مسلح کارروائیاں کرتے تھے۔ تاہم بالفرض اگر کشمیری مسلمان ہندوستانی فوج کی کشمیر میں موجودگی کو اپنے لیے راستہ کا پتھر سمجھیں تب بھی ان کے لیے کامیابی اور ترقی کا راز وہی ہے جو فطرت کی زبان سے انہیں بتایا جا رہا ہے۔ یعنی مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو: Ignore the problems, avail the opportunities. یہ کوئی مجببورانہ اصول نہیں جس کا تعلق صرف موجودہ کشمیر سے ہو۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر انسانی آبادی سے ہے۔ مزید یہ کہ زندگی کا یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی، یہی اصول مسلم ملک کے لیے بھی ہے اور غیر مسلم ملک کے لیے بھی۔ غیر حکیمانہ طریقہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب کسی سے کسی مسئلہ میں نزاع پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں یہ کیا جائے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو رضامندی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ اگر پہلے مرحلہ میں ایسا نہیں کیا گیا اور زیادہ حاصل کرنے کی خاطر مسئلہ کے تصفیہ کو لمبا کیا گیا تو مسئلہ اور پیچیدہ ہو جائے گا، اور پہلے مرحلہ میں جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔ اس کی ایک مثال فلسطین کا موجودہ مسئلہ ہے۔ 1917 کا واقعہ ہے۔ برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا۔ یہ عام طور پر بالفورڈ یکلیریشن کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تقسیم واضح طور پر عربوں کے حق میں تھی۔ اس تقسیم میں فلسطین کا ایک تہائی سے کم حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور اس کا دو تہائی سے زیادہ حصہ عربوں کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، یروشلم کا پورا شہر اور بیت المقدس کا پورا علاقہ عربوں کو ملا تھا۔ مگر اس وقت کی مسلم قیادت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک عرب عالم نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس کو قبول کر لینے کی بات کہی تو اس پر عرب مفاد سے غداری کا الزام لگایا گیا۔ وہ شخص یہ شعر کہہ کر مر گیا: سيعلم قومى أننى لا أغشهم ومهما استطال الليل فالصبح واصل یعنی عنقریب میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکہ نہیں دیا ہے۔ اور رات خواہ کتنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader