Urdu book · امن عالم

حقیقت پسند بنیے

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ سکھ لوگوں کے پاس اپنی تباہی کو جائز ثابت (justify) کرنے کے لیے کوئی شاندار نظریہ موجود نہ تھا۔ جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ایسے شاندار نظریات موجود ہیں جن کے ذریعہ وہ خودکشی کے عمل کو اسلامی شہادت جیسا خوبصورت عنوان دے سکے۔ اس سلسلہ کا ایک تجربہ یہاں قابل ذکر ہے۔ 27 جنوری 1992 کا واقعہ ہے۔ کشمیر کے دو تعلیم یافتہ مسلمان دہلی آئے اور مجھ سے ملاقات کی۔ یہ لوگ خود تو کسی جنگجو تنظیم کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر وہ کشمیر کی جنگجو تحریک کے پوری طرح حامی تھے۔ وہ عملی جنگجو نہ ہوتے ہوئے بھی پورے معنیٰ میں فکری جنگجو تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی نام نہاد تحریک کشمیر کسی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ نہ جہاد ہے اور نہ اس سے اسلامی نظام قائم ہونے والا ہے۔ اور نہ علیحدگی کی کوئی معنویت ہے۔ اس کا نتیجہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے پرجوش طور پر اپنی موجودہ تحریک کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ ہم جلد ہی ایک عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے میرے کہنے پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میری ڈائری میں لکھے: ہندوستان سے علیحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا، انشاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ بات بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آپ لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے اندازے کتنے زیادہ بے حقیقت تھے۔ پھر میں نے اپنی ڈائری میں ان کے سامنے یہ الفاظ لکھے: بالفرض اگر کشمیر ہندوستان سے علیحدہ ہو تو اس کے بعد جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیریوں کے لیے چوائس (choice) ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندوستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے۔ اس واقعہ پر اب دس سال پورے ہورہے ہیں۔ اس دس سالہ تجربہ نے آخری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کشمیری مجاہد کے الفاظ فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ اس کے برعکس، میں نے جو کچھ اللہ کی توفیق سے کہا وہ آج ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکا ہے۔ واقعات نے یہ ثابت کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page