امن عالم
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ موجودہ حالات میں کشمیر کا فائدہ نہ آزاد کشمیر بننے میں ہے اور نہ پاکستانی کشمیر بننے میں۔ کشمیر کا فائدہ ہر اعتبار سے یہ ہے کہ وہ ہندوستان کا حصہ بن جائے اور ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرلے۔ کشمیر میں جو لوگ اپنے خیال کے مطابق، جہاد کی تحریک چلا رہے ہیں، وہ اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں۔ مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام پسند بننے سے پہلے حقیقت پسند بنیں۔ اسلام کا قلعہ حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ خوش فہمی کی زمین پر کوئی بھی قلعہ نہیں بن سکتا، نہ اسلام کا اور نہ غیر اسلام کا۔ سیاسی ٹکراؤ سے احتراز دانش مند آدمی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ دانش مند انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی حیثیت کو جانے: A wise man is he who knows the relative value of things. اس مقولہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ شاید کشمیر کے رہنماؤں میں کوئی بھی شخص نہیں جس کو اس مقولہ کے مطابق، دانش مند کہا جا سکے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اقدام کو جانا مگر انہوں نے اپنے اقدام کے نتیجہ کو نہیں جانا۔ اس معاملہ کو قرآن کی ایک آیت کی روشنی میں سمجھیے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا کے نام اپنا خط بھیجا اور اس سے اطاعت کا مطالبہ کیا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس فوجی طاقت ہے پھر ہم کیوں کسی غیر کی اطاعت قبول کریں ۔ اس کا جواب جو ملکہ سبا نے دیا وہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: ملکہ سبا نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو خراب کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (النمل، 27:34) قرآن میں یہ واقعہ جو نقل کیا گیا ہے، اس سے ایک نہایت اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ طاقتور حکمرانوں سے ٹکراؤ کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ نتیجہ اگر منفی نکلتا ہو تو اعراض کیا جائے گا نہ کہ ٹکراؤ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ طاقتور حکمرانوں سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ الٹی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader