Urdu book · امن عالم

قتال برائے ختم فتنہ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

مقرّر کی ہوئی فطری حالت واپس آجائے۔ اس آیت میں فتنے سے مراد مذہبی جبر ہے جو قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں رائج تھا۔ قدیم زمانہ میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ اس زمانہ میں زندگی کے صرف دو بڑے شعبے تھے ــــ اقتدار اور زمین۔ یہ دونوں شعبے مکمل طور پر بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتے تھے۔ اس طرح پوری انسانی زندگی بادشاہ کے قبضہ میں رہتی تھی۔ حتی کہ لوگوں کا مذہب بھی وہی ہوتا تھا جو بادشاہ کا مذہب ہوتا تھا۔ اس زمانہ کی حالت کو ایک قدیم عربی مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اَلنَّاسُ عَلَى دِيْنِ مُلُوْکِهِمْ (لوگ اپنے بادشاہوں کے مذہب پر ہوتے ہیں)۔ قدیم زمانہ میں جبر کی یہ صورتِ حال خدا کی فطری اسکیم کے خلاف تھی۔ اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ایک قسم کی سیاسی مرکزیت (political centralization) قائم ہوگئی تھی۔ اس نظام کے اندر ہر کام صرف بادشاہ کی اجازت کے تحت ہوسکتا تھا۔ عام افراد کوئی بھی کام آزادانہ طور پر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے تھے۔ یہ تقریباً وہی صورتِ حال تھی جس کا ایک نمونہ کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کے تحت قائم شدہ سابق سوویت یونین میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ سیاسی جبر کے اس غیر فطری نظام کو ختم کر دیا جائے اور زندگی کا پورا نظام اس حالتِ فطری پر قائم ہو جائے جو اللہ نے امتحان کی مصلحت کے تحت انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ یعنی سیاسی اقتدار کی اجازت کے بغیر ہر آدمی آزادانہ طور پر وہ کام کر سکے جس کو وہ کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں ملوکیت کو ختم کرکے خلافت کا قیام اسی عمل کا آغاز تھا۔ یہ نظام سب سے پہلے عرب میں قائم کیا گیا۔ اس وقت کی دنیا میں دو بڑی سلطنتیں ـــ بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر قائم تھیں۔ ان سلطنتوں کے لیے مذکورہ قسم کا اصلاحی پروگرام ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس اصلاحی تحریک کو کچلنا چاہا۔ اس کے نتیجہ میں اصحابِ رسول کا ان سلطنتوں کے ساتھ زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اللہ کی مدد سے اس مقابلہ میں اصحابِ رسول کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henry Pyrrene) نے مطلق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page