Urdu book · امن عالم

سیاسی ٹکراؤ سے احتراز

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت میں نکلتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں آبادیاں تباہ ہوتی ہیں اور عزت والے لوگوں کو ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سیاسی ٹکراؤ کا یہ تباہ کن نتیجہ ہمیشہ ظاہر ہوتا ہے ، خواہ حکمران کوئی بھی ہو ، اور خواہ وہ کوئی صالح انسان کیوں نہ ہو۔ طاقتور حکمران سے ٹکراؤ ہر حال میں اس قابل ہے کہ اس سے بچا جائے ۔ اگر کچھ لوگ اس نصیحت کی پروا نہ کریں اور وہ طاقتور حکمران سے براہِ راست ٹکرا جائیں تو اس کے بعد ان کے لیے جان و مال کی تباہی کی شکایت کرنا لاتا حاصل ہے۔ انہیں جاننا چاہیے کہ جو تباہی انہیں پیش آ رہی ہے وہ دراصل ٹکراؤ کی قیمت ہے ۔ جو لوگ اقتدار کے خلاف مسلح ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کریں ان کو بہر حال یہ قیمت دینی پڑے گی ۔ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ غلطی کوئی ایک گروہ کرے اور اس کی قیمت کسی اور گروہ کی طرف سے ادا کی جائے۔ کشمیری لیڈروں اور پاکستانی لیڈروں کی طرف سے اکثر ایسے مضامین چھپتے ہیں جن کا عنوان ہوتا ہے زخمی کشمیر (Wounded Kashmir) یا زخمی وادی (Wounded Valley)، وغیرہ۔ ان مضامین میں بتایا جاتا ہے کہ انڈیا کی فوج کس طرح کشمیر کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے ۔ اس قسم کی رپورٹیں ساری دنیا میں ہزاروں کی تعداد میں چھاپ کر شائع کی گئی ہیں ۔ مگر عملاً ان کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں۔ اس قسم کی تمام رپورٹیں بے فائدہ چیخ و پکار بن کر رہ گئی ہیں۔ فریاد و احتجاج کی اس بے اثری کی شکایت کشمیریوں کو کسی اور سے کرنے کے بجائے خود اپنے آپ سے کرنا چاہیے ۔ ان کشمیریوں کے لیے ملکہ سبا کے مذکورہ واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے ۔ ملکہ سبا نے یہ حکیمانہ پالیسی اختیار کی کہ فوجوں کے ظلم و ستم کی نوبت ہی نہ آئے۔ اس کے برعکس، کشمیریوں نے اپنی بے دانشی کے تحت فوجوں کو دعوت دی کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں اور انہیں اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں ۔ کشمیریوں نے ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا طریقہ اختیار کیا، اور ملکہ سبا نے بیل سے اعراض کا ۔ یہی ایک جملہ میں کشمیر کی پوری کہانی کا خلاصہ ہے۔ کشمیر کے لوگ آج جس مسئلہ سے دوچار ہیں اس کے حل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page