Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور قرآن میں بتائے ہوئے ملکہ سبا کے واقعہ سے سبق لے کر اپنی زندگی کی تعمیر کی از سرِ نو منصوبہ بندی کریں۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا اور کوئی حل نہیں۔ حکمت کا تقاضا حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی انفسکم فیشدد علیکم (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4904)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم تشدد والا طریقہ اختیار نہ کرو۔ ورنہ تمہارے حالات اور زیادہ شدید ہو جائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی مثال ہر اس مسلم ملک میں پائی جاتی ہے جہاں اپنے مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ انہیں میں سے ایک کشمیر بھی ہے۔ کشمیر میں جو تشدد کلچر چلایا گیا، اس کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا البتہ نقصان اتنا زیادہ ہوا جس کی کوئی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ معیشت تباہ ہوگئی، تعلیمی نظام درہم برہم ہوگیا، تقریباً ایک لاکھ آدمی ہلاک ہوگئے۔ اس سے زیادہ لوگ وہ ہیں جو جسمانی معذوری کا شکار ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ اخلاقی روایات ٹوٹ گئیں۔ جس کشمير يت کے نام پر تحريك چلائی گئی، وہ کشمير يت تباہ ہو کر رہ گئی۔ انہیں میں سے ایک عظیم نقصان یہ ہے کہ کشمیر کے بیشتر باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کشمیر کو چھوڑ کر باہر کے علاقوں میں چلے گئے۔ کشمیر کی ٹورسٹ انڈسٹری اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی تھی۔ اس کی بدولت تجارتی سرگرمیاں یہاں سال بھر جاری رہتی تھیں۔ مگر اب یہ حال ہے کہ وہاں کی ٹورسٹ انڈسٹری تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ ایک کشمیری نے کہا کہ اس ٹورسٹ انڈسٹری کی بدولت کشمیر کا یہ حال تھا کہ ہم پتھرلے کر سڑک پر بیٹھ جاتے تھے تو وہ بھی ایک قیمتی سودے کی طرح بکتا تھا مگر آج یہ حال ہے کہ ہمارے سیب کا بھی کوئی خریدار نہیں۔ کشمیری عوام کے نام پر اٹھائی جانے والی اس تحریک کا کوئی فائدہ کشمیری عوام کو تو نہیں ملا البتہ کشمیر کے نام نہاد لیڈروں کو ضرور اس سے فائدہ پہنچا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page