امن عالم
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن نے اپنے پیروؤں کو جو تعلیم دی ہے ان میں سے ایک یہ ہے ــــ تم لوگ اس چیز پر غم نہ کرو جو تم سے کھویا گیا (57:23)۔ یہ آیت دراصل فطرت کے اس قانون کو بتاتی ہے جو اللہ نے اس دنیا میں مقرر کیا ہے۔ اس قانون کے مطابق ، ہر انسان اور ہر گروہ کے ساتھ لازمی طور پر کھونے کا تجربہ پیش آتا ہے۔ کوئی بھی فرد یا قوم فطرت کے اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ۔ یہ اللہ کی اس حکمتِ تخلیق کا ایک جزء ہے جس کے تحت اس نے اس دنیا کو بنایا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ اللہ کا قانون ہے اور اللہ کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ مگر اسی کے ساتھ فطرت کا دوسرا لازمی قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں مواقع (opportunities) کبھی ختم نہ ہوں۔ اس دنیا میں جب بھی ایک موقع ختم ہوتا ہے تو فوراً ہی دوسرا موقع اس کے ساتھ لگا ہوا چلا آتا ہے۔ اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کھوئے ہوئے موقع کو بھلائے اور نئے موقع کو استعمال کرے۔ یہی آج کشمیریوں کو کرنا چاہیے۔ استحصالی لیڈر محرومیوں کے نام پر اپنی لیڈری چلاتا ہے حقیقی لیڈر وہ ہے جویافت کے اصول پر اپنی تحریک چلائے۔ جو موانع کے بجائے مواقع کی نشان دہی کر کے اپنی قوم کو نئے مستقبل کا راستہ دکھائے۔ امن اور انصاف امن کے ساتھ آپ ابدی طور پر رہ سکتے ہیں مگر جنگ آپ ابدی طور پر نہیں لڑ سکتے ــــ کشمیر کے لیڈروں کو شاید اس آزمودہ تاریخی حقیقت کا علم نہیں۔ وہ اپنی بے نتیجہ جنگ کو مسلسل طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یہ بے نتیجہ جنگ اب خودکش بمباری کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ خودکش بمباری کا طریقہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں ان کے مقابلہ میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کیا مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ دنیا میں کبھی کوئی بادشاہ بھی کسی جنگ کو ابدی طور پر جاری نہ رکھ سکا۔ پھر کشمیر کے کمزور عوام کس طرح اس بے نتیجہ جنگ کو ابدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader