Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

ملک کی حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔ نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش سے زیادہ بلکہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ۔ یہ کشمیری مسلمانوں کا ایک ایسا پلس پوائنٹ ہے جس کو اگر وہ شعوری طور پر جان لیں تو وہ زندگی کی سب سے بڑی نعمت کو حاصل کر سکتے ہیں، یعنی اعتماد اور بلند حوصلہ کا مالک ہونا اور احساس کمتری سے مکمل طور پر پاک ہونا۔ کشمیر کے مسلمان اپنے نادان لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں اپنے لیے پہلا موقع کھو چکے ہیں۔ تاہم اب بھی دوسرا موقع ان کے لیے موجود ہے۔ دوسرے موقع کو استعمال کر کے وہ اب بھی وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جس کو وہ چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کی خوش قسمتی ہے کہ جب وہ بظاہر پہلا موقع کھو کر دوسرے موقع کے دور میں داخل ہوئے تو خود زمانہ میں ایسا انقلاب آ گیا کہ ساری زمین ایک عالمی گاؤں (global village) کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب سیاسی نظام کی تبدیلی خود ایک اضافی (relative) چیز بن چکی ہے۔ نئے حالات میں انسان کے لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ زمین کے ایک گوشہ میں رہ کر عالمی ربط قائم کر سکے۔ وہ بظاہر حکومتی اقتدار پر فائز نہ ہوتے ہوئے بھی وہ سارے فوائد حاصل کر سکے جو قدیم زمانہ میں صرف سیاست و حکومت کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی مثال سنگاپور اور جاپان جیسے ممالک ہیں۔ وہ بظاہر محدود جغرافیہ کے ممالک ہوتے ہوئے عالمی جغرافیہ کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ یہی عالمی امکانات کشمیریوں کے لیے بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ بشرطیکہ وہ دانش مندانہ عمل کے ذریعہ ان کو اپنے حق میں استعمال کر سکیں۔ دونوں کی جیت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی زمین پر دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان نزاع ہو جاتی ہے۔ زمین کا کچھ حصہ ایک گروہ کے پاس ہوتا ہے اور بقیہ حصہ دوسرے گروہ کے پاس۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حصہ کو چھینے کے لیے آپس میں لڑتے رہیں، یہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page