دونوں کی جیت
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
تک کہ دونوں تباہ ہو جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں اس پر راضی ہو جائیں کہ جو حصہ جس گروہ کے قبضہ میں ہے، وہ اس کے پاس رہے اور دونوں باہمی لڑائی کو چھوڑ کر اپنے اپنے حصہ کی تعمیر وترقی میں مصروف ہو جائیں۔ نزاع کے حل کے اس طریقہ کو امریکی اصطلاح میں، میں بھی جیتا، تم بھی جیتے (win-win solution) کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جموں اور کشمیر کے سوال پر انڈیا اور پاکستان کے لیے یہی بہترین قابلِ عمل فارمولا ہے۔ دونوں ملکوں کے قبضہ میں جموں وکشمیر کا ایک ایک حصہ ہے۔ دونوں اگر ون ون سوشن کے اصول پر اپنے اپنے حصہ پر راضی ہو جائیں اور جھگڑے کا راستہ چھوڑ کر حاصل شدہ کی تعمیر پر اپنی بھر پور کوشش لگا دیں تو یقینی طور پر یہ دونوں ملکوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ دونوں کے یہاں ترقی کا وہ سفر شروع ہو جائے گا جو لمبی مدت سے رکا ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے پاس ریاست جموں وکشمیر کا جو حصہ ہے وہ مقابلۂ کم ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں رقبہ کی کمی یا بیشی کی حیثیت محض اضافی ہے۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ اپنے حاصل شدہ رقبہ کو محنت اور دانش مندی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ دنیا میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً دبئی، ہانگ کانگ، تائی وان، سنگاپور، وغیرہ رقبہ کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہیں، مگر ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے وہ بہت سے بڑے بڑے ملکوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ یہ دراصل نفسیات ہے جو کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ کسی انسان کے اندر اگر منفی نفسیات پیدا ہو جائے تو اس کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ اس کے برعکس اگر کسی کی نفسیات مثبت نفسیات بن جائے تو اس کی پوری شخصیت مثبت شخصیت میں ڈھل جائے گی۔ جموں وکشمیر کا مسئلہ 1947 سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تلخی کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس لمبی مدت میں دونوں ایک دوسرے کو حریف کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ دونوں کا احساس یہ رہا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader