Urdu book · امن عالم

قتال برائے ختم فتنہ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ ہزاروں سال سے قائم شدہ جبری نظام کو ختم کر کے آزادی کا نظام قائم کرنا ایک انتہائی انقلابی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ اپنے پہلے ہی دور میں مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی مدد سے ساتویں صدی عیسوی میں اس قدیم جبری نظام کے تاریخی تسلسل کو توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ تبدیلی ایک عمل (process) کے روپ میں انسانی تاریخ میں داخل ہوگئی۔ یہ عمل مختلف قسم کے فطری نشیب و فراز کے ساتھ مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ عدم مرکزیت (de-centralization) کا یہ واقعہ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں پیش آ گیا۔ اب سیاسی اقتدار محدود ہو کر صرف انتظامیہ (administration) کی حیثیت میں باقی رہا۔ اب سیاسی ادارہ کا دخل زندگی کے ایک فیصد حصہ تک محدود ہو گیا۔ اور زندگی کے بقیہ ننانوے شعبے اس طرح آزاد ہو گئے کہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق، ان کو اپنے لیے استعمال کر سکے۔ انسانی زندگی کے نظام میں یہ عظیم تبدیلی عین اسلام کے حق میں تھی۔ اب (دوسروں کی طرح) اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ سیاسی معنوں میں خواہ وہ حکمراں ہوں یا نہ ہوں، زندگی کی تعمیر و تشکیل میں وہ اپنا ہر منصوبہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی نے زندگی کے نظام کو بادشاہت کے دور سے نکال کر اداروں (institutions) کے دور میں پہنچا دیا۔ اب اہل اسلام کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ ہر قسم کے ادارے قائم کر کے زندگی کے تمام شعبوں پر قابض ہو سکیں ۔ حتیٰ کہ خود سیاسی ادارہ کو بھی بالواسطہ انداز میں اپنے زیر اثر کر لیں۔ مذکورہ تبدیلی کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اہل اسلام بڑے پیمانہ پر آزادانہ ادارے قائم کریں، اور اداروں کے ذریعہ ـــ معاشرہ میں وہ نفوذ حاصل کر لیں جو پہلے صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ ممکن ہوا کرتا تھا۔ مثلاً تعلیمی اداروں کے ذریعہ نئی نسلوں کی تربیت، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ عمومی فکری فضا بنانا، کتابوں کے ذریعہ اپنے افکار کی اشاعت، تحقیقی اداروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page