Urdu book · امن عالم

حل کی طرف

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

گی ۔ باہمی تجارت کے دروازے کھل جائیں گے۔ تعلیم اور ثقافت اور سیاحت کے میدان میں دونوں ملکوں کے درمیان لین دین شروع ہو جائے گا۔ لٹریچر کی دو طرفہ آمد و رفت کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی اور برادرانہ ماحول قائم ہو جائے گا۔ انڈیا اور پاکستان کی زبان اور کلچر بڑی حد تک ایک ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لیے دور کے پڑوسی (distant neighbours) بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ دونوں قریب کے پڑوسی بن جائیں گے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی فرد یا قوم کام کرنا چاہے تو اس وقت پیشگی حالات کے نتیجہ میں ایک عملی صورت حال (status quo) موجود رہتی ہے۔ اب سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے موجود صورت حال (status quo) کو بدلا جائے تا کہ عمل کرنے کے راستے پیدا ہوں۔ دوسرے یہ کہ موجود صورت کو اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے بقیہ ممکن میدانوں میں اپنا عمل جاری کرنا۔ یہ طریقہ جس کو میں مثبت سٹیٹس کو ازم (positive status-quoism) کہتا ہوں، یہی عقل کے مطابق ہے۔ یعنی جب آئیڈیل کا حصول ممکن نہ ہو تو پریکٹیکل پر راضی ہو جانا۔ خود اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے ۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے: اَلصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128) ۔ یعنی نزاعی معاملات میں سب سے زیادہ بہتر اور مفید پالیسی سمجھوتہ کی پالیسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اختلافی مواقع پر ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مصالحت کا طریقہ اختیار کرنا۔ سٹیٹس کو (status quo) کو مانتے ہوئے تعلقات کو مستقل بنیاد پر استوار کرنے کی یہ تجویز کوئی نئی نہیں۔ جواہر لال نہرو کے زمانہ میں دونوں طرف کی حکومتیں مبینہ طور پر اس تجویز پر راضی ہو چکی تھیں۔ حتی کہ شیخ محمد عبداللہ دونوں کے بیچ میں ایک درمیانی آدمی کے طور پر پاکستان پہنچ چکے تھے۔ مگر نہرو کی اچانک موت سے اس تاریخ ساز منصوبہ پر عمل درآمد نہ ہو سکا: By 1956, Nehru had publicly offered a settlement of Kashmir with Pakistan over the ceasefire line (now converted into the LoC). On May 23, 1964, Nehru asked Sheikh Abdullah to meet Ayub Khan in Rawalpindi in an effort to resolve the Kashmir

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page