حل کی طرف
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان اگر ایسا کرے کہ کشمیر کے بارے میں صورت موجودہ (status quo) پر رضامند ہو کر اس کو مستقل بندوبست کے طور پر قبول کرلے تو اس میں پاکستان کا یا وسیع تر معنوں میں ملتِ مسلمہ کا کوئی نقصان نہیں۔ کشمیر کا علاقہ پاکستان سے جدا ہونے کے بعد بھی بدستور ایک مسلم خطہ کے طور پر اپنی جگہ باقی رہے گا۔ پھر اس میں آخر نقصان کی کیا بات۔ مزید یہ کہ تجربہ بتاتا ہے کہ برصغیر ہند کے جو مسلمان انڈیا سے جڑے وہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس فرق کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ ہندوستان کے حکیم عبدالحمید صاحب اور پاکستان کے حکیم محمد سعید صاحب سگے بھائی تھے۔ دونوں نے بڑے بڑے کام کیے ۔ مگر حکیم محمد سعید صاحب کو کراچی میں قتل کر دیا گیا ۔ جب کہ حکیم عبدالحمید صاحب امن کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ دہلی میں ان کی طبعی وفাত ہوئی۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان کا ہندوستان سے مصالحت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے طاقتور پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا ہے۔ اور اپنے پڑوسی سے نزاع کو ختم کرنا گویا اپنے اوپر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولنا ہے۔ اپنے حریف سے نزاع کو ختم کرنا کس طرح ترقی کا زینہ بنتا ہے، اس کی ایک مثال موجودہ جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے پہلے جاپان اور امریکہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ سے مکمل مصالحت کر لی۔ اس مصالحت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان عالمی نقشہ میں اقتصادی سپر پاور بن کر ابھرا۔ پاکستان اپنی موجودہ پالیسی سے اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ اپنی موجودہ پالیسی کی بنا پر پاکستان کو یہ کرنا پڑا کہ اس نے انڈیا سے نفرت کو اپنے لیے قومی اتحاد کا ذریعہ بنایا۔ اس غلط پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان (بشمول مشرقی پاکستان ) کے لوگ اسلام کے نام پر تو متحد نہ ہو سکے مگر انڈیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader