دورۂ ہند سے قبل بھیجا ہوا خط
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
جب یہ خبر آئی کہ آپ حکومتِ ہند کی دعوت پر انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں تو اس دورہ کے بارے میں میں نے کئی مضمون لکھے جو یہاں کے اردو، ہندی اور انگریزی اخباروں میں شائع ہوئے۔ مثال کے طور پرساؤتھ انڈیا کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ہت واد (The Hitavada) میں میرا ایک تفصیلی انٹرویو اس کے شمارہ 30 جون 2001 میں چھپا۔ اس میں ملٹری رولر کی حیثیت سے میں نے آپ کا پرزور دفاع کیا تھا۔ چنانچہ اخبار نے اس انٹرویو کو چھپاتے ہوئے اس کا یہ عنوان دیا: Military ruler is a blessing for Pakistan اگر آپ اجازت دیں تو میں کہنا چاہوں گا کہ کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کو وہی پالیسی اختیار کرنا چاہیے جو مشہور انگریزی مقولہ میں اس طرح بیان کی گئی ہی—سیاست ممکن کا آرٹ ہے: Politics is the art of the possible. میں ایک خیر خواہ کی حیثیت سے کشمیر کے مسئلہ پر اس کے آغاز ہی سے غور کرتا رہا ہوں۔ 1968 سے میں نے اس موضوع پر لکھنا شروع کیا اور اردو اور ہندی اور انگریزی پریس میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔ اس مسئلہ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے میری قطعی رائے ہے کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے لیے صرف دو ممکن انتخاب (options) ہیں۔ ایک یہ کہ اس معاملہ میں پاکستان ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کرے۔ یعنی کشمیر کے اشو کو پر امن گفت و شنید کے خانہ میں ڈالتے ہوئے بقیہ تمام امور میں ہندوستان سے نارمل تعلقات قائم کرلے۔ اور دوسرے یہ کہ جموں وکشمیر میں جغرافی اعتبار سے جو سٹیٹس کو (status quo) بن گیا ہے اس کو مستقل سرحد کے طور پر مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طور پر ممکن نہیں۔ تیسری صورت یقینی طور پر صرف تباہی کی صورت ہے، نہ کہ ترقی اور کامیابی کی صورت۔ اس معاملہ کا ایک اور نہایت اہم پہلو ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے ملیٹینسی (militancy) چلائی جارہی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام کشمیر کا ہے۔ اس ملیٹینسی کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ البتہ اس کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی امیج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader