دورۂ ہند سے قبل بھیجا ہوا خط
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک وائولنٹ مذہب (violent religion) کی ہوگئی۔ اس بدنامی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کے آئیڈیالوجیکل مارچ (ideological march) کوروک دیا جوایک ہزار سال سے مسلسل ساری دنیا میں چلا آرہا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کے لیے یہ رول مقدر کیا ہے کہ آپ اسلام کے اس دعوتی سفر کو دوبارہ جاری کریں۔ اگر آپ انڈیا کے ساتھ مستقل قسم کا ایک پیس ٹریٹی (peace treaty) کر لیں تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو ملے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں پوری مسلم دنیا میں ایک نیا صحت مند پر اسس جاری ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ موجودہ متشددانہ رجحان ایک پرامن دعوتی رجحان میں بدل جائے گا۔ لوگ نارمل فضا میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں گے۔ موجودہ مبصرین پاکستان کو امکانی طور پر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ (nuclear flashpoint) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ جرات و ہمت سے کام لے کر حدبیبیہ جیسا ایک پیس ٹریٹی کر لیں تو پاکستان برعکس طور پر دعوہ فلیش پوائنٹ (dawah flashpoint) بن جائے گا۔ مجھے اندازہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں مصالحت کی پالیسی اختیار کرنا آپ کی مقبولیت کے لیے ایک رسک (risk) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس اندیشہ کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا ہے : الصَّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافی معاملات میں ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر مصالحت کی پالیسی اختیار کی جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے وہ زیادہ بہتر ثابت ہوگی۔ زندگی میں ہر بڑی کامیابی کا تعلق رسک سے ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ افریقہ میں فرانس کی نو آبادیاتی پالیسی نے فرانس کو بے حد کمزور کر دیا تھا۔ جنرل ڈیگال نے جرات کر کے یک طرفہ طور پر اس پالیسی کو ختم کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرانس میں جنرل ڈیگال کی مقبولیت بہت کم ہوگئی۔ مگر آج اس ڈیگال ازم کو ایک کامیاب خارجہ پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اسی پالیسی کے نتیجہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس کو نئی طاقت ملی۔ اس خط کے ساتھ میں دو چیزیں بھیج رہا ہوں۔ ایک اپنی کتاب Islam Rediscovered

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader