Urdu book · امن عالم

امن عالم

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

اور دوسرے، ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ اگست 2001_ مجھے امید ہے کہ آپ اس کو پڑھنے کے لیے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس مطالعہ سے میرا مدعا مزید واضح ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کا مددگار ہو۔ نئی دہلی 9 جولائی 2001 دعا گو وحید الدین نشستند و گفتند و برخاستند پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف 14 جولائی 2001 کو اسلام آباد سے دہلی آئے۔ یہاں ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کی پانچ بار ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا خاص مقصد کشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ مگر بات چیت ناکام رہی اور 16 جولائی 2001 کی رات کو واپس ہو کر وہ اسلام آباد چلے گئے۔ اس اعلیٰ سطحی بات چیت کی ناکامی کا سبب کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوستانی وزیر اعظم چاہتے تھے کہ جموں و کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور جغرافی اعتبار سے جو واقعی حالت (status quo) قائم ہو گئی ہے، اس کو علیٰ حالہ باقی رکھتے ہوئے دوسرے تمام امور میں دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات بحال کر لیے جائیں تا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ترقی کار کا ہوا سفر جاری ہو سکے۔ مگر پاکستانی صدر کو غالباً یہ اصرار تھا کہ پہلے جموں وکشمیر کی موجودہ حالت (status quo) کو توڑ کر ان کے دعویٰ کے مطابق پوری ریاست پر پاکستان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد ہی وہ دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات کے قیام پر راضی ہوں گے۔ ہندوستانی وزیر اعظم پاکستانی صدر کی بات نہ مان سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ناکام ہو کر رہ گئی۔ جنرل پرویز مشرف جب ہندوستان آئے تو شروع میں انہوں نے ایسی بات کہی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مصالحت کا ارادہ لے کر ہندوستان آئے ہیں۔ مثلاً انہوں نے راشٹرپتی بھون (نئی دہلی) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کے نزاع کا کوئی فوجی حل (military solution) ممکن نہیں۔ اسی طرح آگرہ کی پریس کانفرنس میں انہوں نے حقیقت کے اعتراف (acceptance)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page