نشست و گفتند بر خاستند
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
(of reality کی بات کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کھلے ذہن کے ساتھ انڈیا آیا ہوں ۔ مگر بعد کو وہ حقیقت پسندانہ مصالحت کیے بغیر پاکستان واپس چلے گئے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، ان کو غالباً پاکستانی عوام کی طرف سے سخت جذباتی ردِ عمل کا اندیشہ تھا، اس بنا پر وہ مصالحت کا طریقہ اختیار نہ کر سکے اور نا کام واپس چلے گئے۔ ایک مبصر کے الفاظ میں، جنرل پرویز مشرف کو معلوم تھا کہ پاکستان کے جذباتی عوام جو کرکٹ کے میدان میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی ہار کو برداشت نہیں کر پاتے، وہ کشمیر میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی سیاسی ہار کو کیسے برداشت کر سکیں گے۔ مگر یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ پاکستان کے صدر کو جاننا چاہیے کہ ان کا سامنا صرف ایک مسئلہ سے نہیں ہے بلکہ وہ بیک وقت دو مسئلے کے درمیان ہیں ــــ اگر وہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا سے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کریں تو پاکستان کے عوام اس کو اپنی سیاسی ہار سمجھ کر جنرل پرویز مشرف سے غصہ ہو جائیں گے ۔ لیکن دوسری طرف یہ سخت تر مسئلہ ہے کہ اگر وہ کشمیر کے سوال پر مصالحت نہ کریں تو پاکستان کی اقتصادی تباہی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان میں مایوسی پھیلے گی اور پاکستانی عوام کی نظر میں وہ غیر مطلوب حکمراں بن جائیں گے ۔ اور پھر وہ بھی اسی طرح سیاسی زوال کا شکار ہوں گے جس طرح ان کے پیش رو ٹھیک اسی سبب سے سیاسی زوال کا شکار ہوئے۔ ایسی حالت میں پاکستان کے فوجی صدر کے سامنے بیک وقت دو برائیوں میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ ہے، نہ کہ صرف ایک برائی کا مسئلہ ۔ وہ کسی حال میں بھی اپنے سیاسی کیریئر کو برائی کے مسئلہ سے بچا نہیں سکتے ۔ اب انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مذکورہ دونوں برائیوں میں سے کون سی چھوٹی برائی (lesser evil) ہے اور کون سی بڑی برائی (greater evil)۔ اس معاملہ میں اگر مجھے رائے دینا ہو تو میں کہوں گا کہ کشمیر کے بارے میں ہندوستانی موقف کو تسلیم کر لینا پاکستانی صدر کے لیے چھوٹی بُرائی ہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں جو کچھ ہوگا وہ صرف یہ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader